ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 172 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 172

۱۷۲ کرنے کا اختیار ہے۔ان کے نزدیک طلاق کے متعلق خاوند کو صرف اس قدر اختیارات منتقل کرنے کا حق ہے۔جن سے طلاق کا کم از کم تقاضا پورا ہو سکے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے طلاق کا اختیار عورتوں کے سپر د اس لئے نہیں گیا کہ ان کی عقل ناقص ہوتی ہے۔اس لئے ان سے یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ ہو او ہوس کے غلبہ کے ماتحت اپنے اوپر بے موقعہ طلاق وارد کرلیں۔اس لئے جب خاوند یہ اختیار اس کے سپرد کردے۔تو اس صورت میں کم از کم اختیار ہی اس کے سپرد ہوگا اور وہ صرف ایک طلاق کا اختیار ہے۔حسن بصری کے نزدیک اگر بیوی کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ چاہے تو اپنے خاوند کو اختیار کرے چاہے تو اپنے اوپر طلاق واقع کرے۔اس صورت میں اگر وہ اپنے خاوند کو اختیار کرے گی تو اس پر ایک طلاق واقع ہوگی۔اور اگر اپنے اوپر طلاق واقع کرے گی تو اس پر تین طلاقیں واقع ہونگی جمہور کے نزدیک خاوند کو اختیار کرنے کی صورت میں اس پر کوئی طلاق واقع نہ ہوگی۔