ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 155 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 155

۱۵۵ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيْمَا افْتَدَتْ بِه اس کے بعد اللہ تعالے نے اس حکم کو منسوخ فرما کرد و سرا حکم نازل فرمایا کہ ان وَإِنْ أَرَدْتُمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَكَانَ زَوْجٍ وَأَتَيْتُمْ احْدُهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا جمہور اس کا یہ مطلب لیتے ہیں کہ خاوند اپنی بیوی کی رضا مندی کے بغیر کوئی چیز واپس نہیں لے سکتا ہاں اس کی رضا مندی سے جائز ہے۔شرائط ضلع خلع کے وقوع کی شرائط کے بارہ میں ان امور کا تذکرہ کیا جائے گا۔(1) وہ مقدار جو بدل ضلع کے طور پر دی جاتی ہے۔(۲) بدل خلع کی صفت۔(۳) کس حال میں ضلع جائز ہے ؟ ایم ) اس عورت کی صفت جو ضلع وحاصل کرنا چاہتی ہے مقدار بدل خلع امام مالک - امام شافعی اور فقہاء کی ایک جماعت کے نزدیک صورت بدل ضلع کے طور پر اس سے زیادہ رقم ادا کرے۔جو اس نے اپنے خاوند سے حق مہر میں حاصل کی ہے۔ایک جماعت کا مذہب یہ ہے کہ جس قدر اس کے خاوند نے اسے دیا ہے اس سے زیادہ لینا خاوند کے لئے منع ہے۔له -ترجمہ : اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی سے نکاح کرنا چاہو اور تم ان میں سے کسی ایک کو ایک ڈھیر مال کا دے چکے ہو تو بھی اس مال سے کچھ واپس نہ لو۔(نساء) سے اس بارہ میں جمہور کا مذہب درست ہے کیونکہ قرآن مجید کی کوئی آیت منسوخ نہیں ہے۔کیونکہ استبولالی دو طریق سے ہو سکتا ہے۔اول طلاق کے ذریعہ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے آیت مندرجہ بالا میں تشریح فرما دی کہ اگر تم اپنی پہلی بیوی کو ایک ڈھیر بھی دے چکے ہو تو اسے واپس لینے کے مجاز نہیں ہو دوم - ضلع کے ذریعہ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے آیت فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ پہلے سے اس امر کی اجازت مرحمت فرما دی۔کہ اگر تم اپنی بیوی کو کچھوٹے بچے ہو تو اُسے واپس لے سکتے ہو۔یا اگر تمہاری بیوی کا تم پر کوئی مطالبہ ہو تو وہ مطالبہ ترک کر کے آزادی حاصل کر سکتی ہے۔ان دونوں آیات میں نہ تو کوئی تعارض ہے اور نہ ہی تاریخ ومنسوخ ہونے کی کوئی وجہ۔