ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 76
24 اور روایت اِرْضِعِيهِ خَمْسَ رَضَعَاتِ سے دلیل خطاب کے ماتحت یہ مفہوم نکلتا ہے کہ پانچ سے کم مرتبہ چوسنے سے حرمت لازم نہیں آتی۔پس فقہار کی ان ہر دو جماعتوں نے اپنے اپنے مسلک کے مطابق قرآن مجید اور حدیث شریف میں مطابقت کی راہ نکال لی ہے لیکن ابن رشد کہتے ہیں کہ پھر بھی یہ اعتراض قائم کر ہا کہ ان میں سے ہر ایک نے ایک روایت کو دوسری پر ترجیح کیونکردی۔دودھ پینے والے اس پر سب کا اتفاق ہے کہ دو سال کے اندر دودہ پینے سے حرمت لازم آجاتی ہے۔لیکن اس سے بڑی عمرمیں حرمت کی عمر کے متعلق اختلاف ہے۔امام مالک - ابوحنیفہ - شافعی کے نزدیک دو سال سے بڑی عمر میں رضاعت سے حرمت لازم نہیں آتی۔داؤد اور دیگر اہل ظاہر کے نزدیک بڑی عمر میں بھی رضاعت سے حرمت لازمیم آجاتی ہے یہی مذہب حضرت عائشہ۔ابن مسعود - ابن عمر ابو هریر ان ازواج مطہرات اور حضرت ابن عباس کا ہے۔یہ اختلاف مختلف روایات میں اختلاف کی بنا پر ہے چنانچہ اس بارہ که یہ مذہب زیادہ درست معلوم ہوتا ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ لا تحرم المَصَّةُ وَالمَصَّتَانِ یعنی بچہ کا ایک دفعہ یا دو دفعہ پستان کو چوسنا حرمت کا موجب نہیں بنتا اسی طرح آپ نے یہ بھی فرمایا لا تُحرُمُ الأَضْعَةُ وَالرعتان یعنی بچے کا ایک دفعہ یا دو دفعہ کسی عورت کے دورے کو سیر ہو کر پینے سے کبھی مت لازم نہیں آتی۔رَضْعَه در حقیقت ایک وفعہ سیر ہو کر پینے کو کہتے ہیں۔بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اس کی عمر کے مختلف مراتب میں طبعی لحاظ سے یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ اتنی دفعہ دن میں اس کو دودھ پلایا جائے۔گویا ایک وقعہ بچے کا دودھ پینا " رضعہ" کہلائے گا۔پس جو بچہ ایک دن میں پانچ دفعہ یا مختلف اوقات میں پانچ دفعہ سیر ہو کر کسی کا دورہ پی لے گا تو اس سے حرمت لازم آئے گی