ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 270
٢٧٠ ہوگا اور جہاں مطلق حکم ہے وہاں مومن اور غیر مومن دونوں قسم کے غلام کفارہ میں آزاد کئے جا سکتے ہیں۔کفارہ ظہار کے متعلق ایک اختلاف یہ ہے کہ آزاد کردہ غلام کا تمام عیوب سے صحیح سالم ہونا ضروری ہے یا عیب دار غلام بھی آزاد کیا جا سکتا ہے۔جمہور کے نزدیک کفارہ میں غلام کو آزاد کرنا قربانی کے قائمقام ہے میں طرح قربانی ثواب کی نیت سے دی جاتی ہے اس لئے اس کا جملہ عیوب سے پاک ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے۔اسی طرح غلام کی آزادی کا حال ہے اس میں نبھی ثواب کی نیت ہوتی ہے اس لئے اسے بھی جملہ عیوب سے بری ہونا چاہئے۔دوسرے فریق کی دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید کا حکم عام ہے اس میں بے عیب ہونے کی کوئی تخصیص نہیں کی گئی اس لئے ہمیں بھی اس میں تخصیص کرنے کا اختیار نہیں ہے۔وہ لوگ جن کے نزدیک میبدار غلام آزاد کرنے سے کفارہ ادا نہیں ہوتا ان کے نزدیک بھی بعض عیوب اس حکم سے مستثنی ہیں۔چنانچہ اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اندھا ہونا یا دونوں ہاتھوں یا پاؤں کا کٹا ہونا عیب ہے اور ایسا غلام آزاد کرنے سے کفارہ ادا نہیں ہوتا۔جس کا صرف ایک ہاتھ کٹا ہوا ہوا امام ابو حنیفہ اس کو آزاد کرنا جائز سمجھتے ہیں۔لیکن امام مالک اور شافعی اس کو جائز نہیں سمجھتے۔امام مالک کے نزدیک ایک آنکھ سے کانا یا دونوں کان کٹے ہوئے غلام کو کھارہ میں آزاد کرنا منع ہے۔لیکن امام شافعی کے نزدیک جائز ہے۔بہرے غلام کے متعلق امام مالک کی دو روایات ہیں ایک روایت کے مطابق جائز ہے اور دوسری روایت کے ماتحت ناجائز ہے۔لیکن گونگے کے متعلق امام مالک کا یہی مذہب ہے کہ اسے کفارہ میں آزاد نہیں کرنا چاہئیے۔