ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 230
۲۳۰ جس کا اطلاق وفات کی عدت پر بھی ہوتا ہے۔اسی طرح اس مذہب کی تائید ام سلمہ کی مندرجہ ذیل حدیث سے ہوتی ہے۔انَّ سَبيعَةَ الْأَسْلَمِيةَ وَلَدَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِنِصْفِ شَهْرٍ فَجَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا قَدْ حَلَلْتِ فَانْكِى مَنْ شِئْتِ امام مالک نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ اس کی عدت وہ ہے جوان دونوں میں سے آخر میں ختم ہو یعنی اگر چار ماہ دس دن کی مدت وضع حمل کے بعد ختم ہوتی ہو تو اس کی عدت چار ماہ دس دن ہوگی۔اور اگر وضع حمل چار ماہ دس اگر دن کے بعد ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہوگی۔اور اس قسم کی روایت حضرت علی سے بھی مروی ہے۔ان کی دلیل یہ ہے کہ اسی طرح حاملہ عورتوں کے متعلق عمومی حکم یعنی وضع حمل اور وفات شدہ خاوند والی عورت کی عدت کے حکم یعنی چار ماہ دس دن میں موافقت ہو جاتی ہے۔وہ لونڈی جس کا مالک فوت ہو گیا ہو اس کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں۔(1) فوت ہونے والا اس کا خاوند ہو۔(۲) فوت ہونے والا اس کا آتا ہو۔(۳) وہ صورت ام ولد ہو (م) وہ ام ولد نہ ہو۔بیوی ہونے کی صورت میں جمہور کا مذہب یہ ہے کہ اس کی عدت آزاد عورت کی عدت سے نصف ہوگی۔اہل ظاہر کا مذہب یہ ہے کہ اس کی عدت آزاد عورت کی عدت کے برابر ہو گی۔یہی مذہب ان کے نزدیک مطلقہ لونڈی کی عدت کے متعلق ہے۔له ترجمہ: - سبیعة الاسلیقہ کے ہاں اس کے خاوند کی وفات سے نصف ماہ بعد بچے پیدا ہوا چنا نچہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی عدت کے متعلق دریافت کرنے آئیں تو آپنے فرمایا کہ تمہاری عدت ختم ہو گئی ہے اب تم جیسن کے ساتھ بچا ہو نکاح کر لو۔دنسائی باب عدة المحاض المتوفى عنها زوجها )