ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 157
۱۵۷ اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اس صورت میں ضلع تو صحیح ہوگا۔یعنی اس کا نکاح فسخ ہو جائے گا۔لیکن عوض ضلع کے متعلق امام مالک اور امام ابو حنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ خاوند عوض کا مستحق نہ ہوگا۔امام شافعی کے نزدیک عورت ہر مثل ادا کر کے آزاد ہوگی۔جواز خلع کی صورتیں جمہور فقہار اس امر کے قائل ہیں کہ ضلع فریقین کی رضا مندی سے جائز ہے۔بشرطیکہ بیوی خاوند کے مظالم سے تنگ آ کر رضامند نہ ہوئی ہو۔یہ استدلال اللہ تعالے کے اس ارشاد سے کیا گیا ہے۔وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضٍ مَا أَتَيْتُمُوهُنَّ إلا أن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ له نیز اللہ تعالے کا یہ ارشاد بھی اس کی تائید کرتا ہے۔فَإِنْ خِفْتُمْ أَلا يُقِيمَا حُدُودَ اللهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيْمَا افْتَدَتْ بِه۔ابو قلابہ اور حسن بصری اس طرف گئے ہیں کہ ضلع اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک خاوند اپنی بیوی کو اپنی آنکھوں سے زنا کرتے نہ دیکھے تھے۔انہوں نے آیت ترجمہ :۔اور تم انہیں اس غرض سے تنگ نہ کرو کہ جوکچھ تم نے انہیں دیا ہے اس میں کچھ پھین کرلے جاؤ۔ہاں اگر وہ کسی کھلی کھلی بدی کی مرتکب ہوں تو اس کا حکم پہلے گزر چکا ہے کہ ان کو اپنے گھروں میں اس وقت تک رکھو کہ ان کو موت آجائے یا اللہ ان کے لئے کوئی اور راہ نکالے) (نسار ) ترجمہ: اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ وہ دونوں اللہ کی مقرر کر وہ حدوں کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو وہ یعنی عورت جو کچھ تطورت یہ دے اس کے بارہ میں ان دونوں میں سے کسی کو کوئی گاہ نہ ہوگا۔(بقره ع۲۹) سے ابو قلابہ اور حسن بصری کا اس آیت سے یہ استدلال کرنا کہ ضلع صرف اس صورت میں جائز ہے۔جب کہ خاوند اپنی بیوی کو اپنی آنکھوں سے زنا کرتے ہوئے دیکھ لے۔یہ درست نہیں ہے۔روک، کیونکہ ضلع کا اختیار بیوی کو حاصل ہے۔خاوند کے اختیار کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔دوم: اس صورت میں شریعت نے خاوند کو لکان کا اختیار دیا ہے۔ضلع کا اس سے تعلق نہیں۔سوم۔اس جگہ استثناء اس امر کی نہیں ہے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنی آنکھوں سے زنا کرتے دیکھے (بقیہ حاشیہ ویکھو اگلے صفحہ ہیں)