ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 114
۱۱۴ امام مالک کے نزدیک جب اس کے خاوند کا معاملہ حاکم وقت کے سامنے پیش ہو اور وہ اس بات کی تصدیق کر دے کہ واقعی اس کا خاوند مفقود الخبر ہے تو وہ عورت اس دن سے چار سال تک انتظار کرے اس کے بعد وہ ایک بیوہ کی عدت گزارے یعنی چار ماہ دس دن۔اس کے بعد وہ آزاد ہے۔لیکن اس کے بعد وہ اسکی جائیداد کی اس وقت تک وارث نہیں ہو سکتی جب تک اس پر اتنی مدت نہ گذر جائے جتنی ایک مرد کی اوسط عمر ہوتی ہے۔بعض کے نزدیک یہ مدت ستر سال ہے۔بعض کے نزدیک انٹی سال اور بعض کے نزدیک نوے سال۔اور بعض کے نزدیک نو سال ہے۔یہی قول حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان را سے مروی ہے۔اور لیث کا بھی یہی مذہب ہے۔امام ابو حنیفہ - امام شافعی اور ثوری کا مذہب یہ ہے کہ مفقود الخبر کی ہیوی اس وقت تک اس کے عقد سے آزاد نہیں ہوتی۔جب تک اسکی نقینی موت کا علم نہ ہو جائے۔یہی قول حضرت علی اور ابن مسعودؓ سے مروی ہے۔وجہ اختلاف اس اختلاف کا سبب یہ ہے کہ استصحابیت حال اور قیاس میں اختلاف ہے اس مسئلہ میں استصحاب حال یہ ہے کہ ایک عورت جب ایک مرد کے ساتھ عقد نکاح کی وجہ سے وابستہ ہو جاتی ہے تو وہ اس مرد کی وفات یا طلاق یا کسی واضح دلیل کے بغیر اس سے جدا نہیں ہو سکتی۔پس اس صورت میں چونکہ مفقود الخبر کی موت کی تصدیق حاکم وقت کی طرف سے ہو جاتی ہے۔اس لئے وہ عورت اس مرد کے عقد سے آزاد ہو جانی چاہیئے۔ه استصحاب حال سے مراد کسی چیز کا اس حالت پر قائم رہتا ہے جو شریعت کے قانون کے مطابق اس کو ٹی ہے تا وقتیکہ اس حالت کے زائل کرنے کا کوئی یقینی ثبوت نہ ملے۔مثلاً ایک صاف پانی کا مٹکہ ہے شریعت نے اس کو پاک قرار دیا ہے طہارت کا یہ حکم اس وقت تک اس میں قائم کی ہے گا۔جب تک ہمیں یقینی طور پر یہ معلوم نہ ہو جائے کہ اس میں کوئی ایسی چیز مل گئی ہے جس سے وہ پانی ناپاک ہو گیا ہے۔