ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 103
١٠٣ اس وجہ سے وہ اپنے خاوند کے نکاح سے آزاد نہیں ہوئی۔کیونکہ اگر صرف بیچ سے ہی طلاق واقع ہو جاتی ہے تو پھر اسے اپنے خاوند کے عقد میں رہنے یا نکاح فسخ کرنے کا مطلب ہی کیا ہوا۔جمہور کی دلیل ابن ابی شیبہ کی یہ روایت ہے :۔عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم بَعَثَ يَومَ حُنَيْنٍ سَرِقَةً فَأَصَابُوا حَيَّا مِنَ الْعَرَبِ يَوْمَ أَوطَاسِ فَهَر مهم وما هُمْ نِسَاء لَهُنَّ ازْوَاجَ وَ كَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَاتَّمُوا مِنْ غِشْيَانِهِنَّ مِنْ أَجَلِ أَزْوَاجِهِنَّ فَاَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ اس روایت میں آیت قرآنی سے استدلال کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ عورہ خواہ کسی وجہ سے ملکیت میں آجائے اس کا خاوند زندہ ہو یا نہ ہو وہ اپنے مالک کے لئے حلال ہے۔یہ مسئلہ کہ وہ نکاح جو اسلام سے قبل کے ہیں قائم رہتے ہیں یا نہیں ؟ اس بارہ میں سب کا اتفاق ہے کہ اگر دونوں میاں بیوی اکٹھے مسلمان ہو جائیں اور ان کا نکاح اسلام کے بنیادی احکام کے خلاف نہ ہو (مثلاً وہ نسیبی حرمت والے رشتے نہ ہوں یا ایک عقد میں دو حقیقی بہنیں نہ ہوں یا چار سے زائد بیویاں نہ ہوں تو ایسا نکاح قائم رہے گا۔اس کے متعلق دو مسائل میں اختلاف ہے :۔له تترجمہ : ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے مقام پرایک دستہ بھیجا۔انہوں نے عربوں کے ایک قبیلہ کو شکست دی اور انہیں قتل کیا۔وہاں ان کو بعض ایسی عورتیں ہاتھ آئیں جن کے خاوند زندہ تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے بعض ایسے تھے جو ان کے ساتھ صحبت کرنے کو گناہ خیال کرتے تھے تو اللہ تعالے نے یہ آیت نازل فرمائی: وَالْمُحْصَنَتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ