ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 85
۸۵ تعداد ازواج تمام مسلمان اس امر پر متفق ہیں کہ چار بیویوں سے بیک وقت شادی کرنا جائز ہے لیکن یہ حکم آزاد مردوں کے لئے ہے۔اس مسئلہ میں دو جگہوں پر اختلاف کیا گیا ہے۔اول کیا غلام بھی چار بیویاں کر سکتا ہے یا نہیں ؟ دوم کیا چار بیویوں سے زائد بھی جائز ہیں یا نہیں ؟ غلام کے لئے امام مالک کے مشہور قول کے مطابق چار نکاح جائز ہیں اور یہی اہل ظاہر کا مذہب ہے۔امام ابو حنیفہ اور امام شافعی کے نزدیک غلام صرف دو بیویاں بیک وقت رکھے سکتا ہے۔وجه اختلاف اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ میں طرح حد زنا میں غلام کی حد نصف ہو جاتی ہے۔یا طلاق کی تعداد میں کمی ہو جاتی ہے کیا یہی حکم تعداد ازواج میں بھی ملحوظ ہے۔یا نہیں ہے حقن تار کے متعلق تو تمام فقہاء متفق ہیں کہ غلام کی حد آزاد کی حد سے نصف ہے لیکن تعداد ازواج اور طلاق وغیرہ مسائل میں اختلاف ہے۔آزاد مرد کے لئے چار سے زائد شادیوں کے متعلق جمہور کا مذہب تو یہ ہے کہ چار بیویوں کی موجودگی میں پانچویں بیوی جائزہ نہیں ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَه اسی طرح حدیث میں ہے۔قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَوةُ وَالسَّلَامُ لِغَيْلَانَ لَمَّا أَسْلَمَ وَنَحْتَهُ عَشْرُ ہ ترجمہ :۔تم کو عورتوں میں سے جو پسند آئیں ان میں سے دو دو تین تین اور چار چار سے نکاح کرلو۔(نساء عدم