ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 77 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 77

CL دو احادیث بیان ہوئی ہیں (1) حدیث سالم جو اس سے پہلے گزر چکی ہے (۲) حدیث عائشہ وہ جس کو امام بخاری اور مسلم نے بیان کیا ہے۔اور وہ یہ ہے:۔قَالَتْ دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي رَجَل فاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ فَقُلْتُ يَا رسول اللَّهِ إِنَّهُ أَى مِنَ الرَّضَاعَةِ فَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلوةُ وَالسَّلَامُ انْظُرْنَ مَنْ اِخْوَانَكُنَ مِنَ الرِّضَاعَةِ فَإِنَّ الرَّضَاعَةَ من المجاعة له پس جس شخص نے اس حدیث کو ترجیح دی ہے اس نے یہ کہا ہے کہ وہ دور سے حرمت پیدا نہیں کرتا جو بچے کی غذا نہیں بنتا۔البتہ سالم کی روایت صرف سالم کے متعلق ہی ہے اس لئے یہ اس کے لئے خاص ہے۔جس نے سالم کی روایت کو ترجیح دی ہے اس نے یہ کہا ہے کہ چونکہ حضرت عائشہ کا عمل خود اپنی روایت کے مطابق نہ تھا اس لئے حدیث سالم کو ترجیح حاصل ہے۔دو سال کے اندر اگر دو سال کے اندر اندریچہ اپنی ماں کا دودھ چھوڑ کر دودھ پلانا دوسری غذا پر گزارہ کرنے لگا ہو تو اس عرصہ میں اگر کوئی عورت اس بچہ کو دودھ پلائے تو کیا اس بچہ پر بھی وہ صورت اور اس کے اقر بار ترام ہوں گے ؟ اس کے متعلق امام مالک کا مذہب یہ ہے کہ اس رضاعت سے حرمت لازم نہیں آتی لیکن امام ابو حنیفہ اور امام شافعی کے نزدیک حرمت واقع ہو جاتی ہے۔نه توجیه احضر عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم میرے پاس آئے اور اس وقت میرے پاس ایک شخص موجود تھا۔آپ کو یہ بات نا پسند آئی۔چنانچہ لینے آپ کے چہرہ پر غصہ کے آثار دیکھے کینے عرض کیا یا رسول اللہ یہ تو میرا رضاعی بھائی ہے۔آپ نے فرمایا کہ تم پوری طرح تحقیق کر لو کہ تمہار کے ضاعی بھائی کون ہیں۔کیونکہ رضاعت بھوک سے ہوتی ہے۔ربیعنی دودھ جو رضاعت کے عرصہ کے اندر اندر پیا جائے اس سے رضاعت کے احکام صادر ہوتے ہیں، را بوداود کتاب النکاح باب رضاعت الكبير)