ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 54 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 54

۵۴ گوارہ نہ ہوں یا دلی کی اجازت نہ ہو۔وغیرہ۔اگر فسخ نکاح کی صورت عقد صحیح کے بعد پیدا ہوئی ہو مثلاً نکاح کے بعد یہ معلوم ہوا کہ ان دونوں کے درمیان رضاعی رشتہ ہے یا ان میں سے کوئی ایک مرتد ہو جائے تو ان صورتوں میں اگر خاوند کا کوئی قصور نہ ہو تو نصف مہر واجب نہیں ہوتا لیکن اگر یہ خدائی خاوند کی وجہ سے ہو مثلاً وہ مرتد ہو گیا ہو تو اس صورت میں نصف مہر واجب ہوگا۔اہل ظاہر کا مذہب یہ ہے کہ جو طلاق رخصتانہ سے قبل واقع ہو خواہ اس طلاق کا سبب عورت کی طرف سے مطالبہ کی صورت میں ہو۔یا مرد کی طرف سے اس میں نصف مہر واجب ہوتا ہے۔لیکن اگر طلاق نہ ہو بلکہ فسخ نکاح ہو تو اس میں نصف مہر واجب نہیں ہوتا۔بغیر مہر کے نکاح اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ وہ نکاح جس میں جہر مقررہ نہ کیا گیا ہو جائز ہے گویا نکاح کی صحت کے لئے پہلے سے مہر کا مقدر کرنا ضروری نہیں۔البتہ رخصت کے بعد مہر خود بخود واجب ہو جائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔لا جُنَاحَ عَلَيْكُمْان مللتُمُ النِّسَاءِ مَالَمْ تَمَسُّوهُنَّ أَوْ تَخْرِضُوا لَهُنَّ فَرِيضَةً اس بارہ میں دو مواقع پر اختلاف کیا گیا ہے۔اول : جب بیوی ہر مقرر کرنے کا مطالبہ کرے۔اور میاں بیوی کا مقدار مہر میں اختلاف ہو دوم :- جب خاوند فوت ہو جائے اور اس نے نکاح کے موقعہ پر مہر مقررہ نہ کیا ہو۔مسئلہ اول کے متعلق فقہاء کے ایک گروہ کا مذہب یہ ہے کہ اس کا مہر مثل مقر کیا جائے گا۔اگر خاوند اس اختلاف کے دوران میں بیوی کو طلاق دیدے تو اس صورت میں بعض کے نزدیک اس کا نصف مہر ادا کرے اور بعض کے نزدیک اس کا کوئی مہر نہیں ہے کیونکہ نکاح کے موقعہ پر اس کا کوئی مہر مقرر نہیں تھا۔یہ مذہب امام ابو حنیفہ له ترجمہ: تمہیں گناہ نہیں ہے اگر تم عورتوں کو اس وقت طلاق دے دو جبکہ تم نے ان کو چھوا تک نہ ہو یا مہر نہ مقرر کیا ہو۔(بقرہ (۳)