ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 51 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 51

۵۱ بھی کل مہر واجب ہو جاتا ہے خواہ تعلقات زوجیت قائم ہوئے ہوں یا نہ سوائے اسکی کہ بعد میں معلوم ہو جائے کہ منکوحہ بیمار تھی یا رمضان کی وجہ سے روزہ دار کھتی یا حائضہ تھی جسکی وجہ سے مخصوص تعلقات قائم نہیں ہو سکے۔ان صورتوں میں امام ابو حنیفہ کے نزدیک بھی خلوت صحیحہ سے کل مہر واجب نہیں ہوتا۔وجہ اختلاف اس اختلاف کا سبب یہ ہے کہ بعض صحابہ کا مذہب بظا ہر مندرجہ ذیل نص کے خلاف ہے۔وَكَيْفَ تَأْخُذُونَهُ وَقَدْ رَفَضَى بَعْضُكُمْ إلى بَعْضن اس آیت میں ایسی عورت جس کے ساتھ مجامعت ہو چکی ہو اس سے حق مہر کی رقم واپس لینے سے منع کیا گیا ہے۔اسی طرح وہ عورت جس سے ابھی مجامعت نہ ہو اور طلاق واقعہ ہو گئی ہو اس کے متعلق مندرجہ ذیل نص وارد ہوئی ہے۔وَان طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُم پس یہ دونوں احکام دو حالتوں کے متعلق بیان ہوئے ہیں۔یعنی جماع سے قبل اور جماع کے بعد۔اور ان دونوں کے درمیان کوئی اور تیسری حالت نہیں ہوتی پس اسکی یہ ثابت ہوا کہ کل مہر کی ادائیگی بغیر جماع کے واجب نہیں ہوتی۔آیت مذکورہ میں نمش کا جو لفظ استعمال ہوا ہے اس کے لغوی معنے صرف چھوٹے کے ہیں۔غالباً بعض صحابہ نے مشق کے لغوی معنوں کو ہی ملحوظ رکھ کر ظاہر نص کے خلاف اپنے اس خیال کی بنیاد رکھی ہے کہ خلوت صحیحہ سے بھی کل ہر واجب ہو جاتا ہے۔اسی وجہ سے امام مالک کا یہ مذہب ہے کہ اگر کوئی عنیت سے جوابی بیماری میں مبتلا ہو ایک عرصہ تک اپنی بیوی کے پاس رہنے کے بعد اسے طلاق دیدے۔تو اس پر کل ہر ترجمہ: تم اپنا دیا ہوا مال کیونکر واپس لے سکتے ہو جبکہ تم آپس میں مل چکے ہو ( النساء سح) ے اگر تم اپنی بیوی کو مجامعت سے قبل طلاق دو اور تم ان کا مہر مقرر کر چکے ہو۔تو مقرر کردہ مہر کا نصف ان کو ادا کرو۔(بقره ع (۳۱) سے جس کی قوت رجولیت کمزور یا مفقود ہو چکی ہو۔