ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page viii of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page viii

1 نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔اور اس لحاظ سے اسے دیگر تمام فی کتب میں ممتاز مقام اسے حاصل ہے۔چنانچہ اس کتاب کی مشہور خصوصیات درج ذیل ہیں :- (1) اس کتاب کے مضامین کی ترتیب دیگر کتب فقہ کی ترتیب سے بالکل مختلف ہے۔مثلاً عبادات کے بعد کتاب الجھاد کو کتاب الایمان اور معاملات سے مقدم کیا گیا ہے۔کیونکہ ابن رشد کے نزدیک جہاد کا مرتبہ عبادات کے بعد سب سے مقدم ہے۔اسی طرح کتاب الاشریہ اور کتاب الضحایا کو معاملات سے بالکل الگ کر دیا ہے، کیونکہ اسلام میں ان چیزوں کی حیثیت محض تعبدی اور ثانوی ہے۔(۳) اس کتاب کی سب سے بڑی اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کے پڑھنے سے اجتہاد کی قوت و استعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ابن رش سے قبل فقہاء کا کام صر یہ تھاکہ وہ اپنے امام کی رائے کی متعصبانہ تائید کریں چنانچہ اپنے امام کے قول کو صحیح ثابت کرنے کے لئے ہر قسم کے رطب و یابس دلائل فراہم کئے جاتے میں کا نتیجہ یہ ہوتا کہ ہر فریق اپنے اپنے امام کے مسلک کے ساتھ چھٹتا رہا۔چنانچہ ان کے ذہنوں میں ایسا جلا پیدا نہ ہو سکا کہ وہ خالی الذہن ہو کر یہ فیصلہ کر سکیں کہ حق کس کے ساتھ ہے اور باطل پر کون ہے۔لیکن ابن رشد نے یہ کتاب لکھ کر علم کی اپنی بڑی خدمت کی ہے۔کہ انہوں نے ذہنوں کے دھارے کو بالکل بدل کر رکھ دیا۔اور کورانہ تقلید کے انداز کو تہ و بالا کر دیا۔اور اذہان میں نئے انداز پر سوچنے کی اہمیت پیدا کر دی۔چنانچہ خود ابن رشد اسی کتاب کے لکھنے کی غرض وغایت ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں :- اس کتاب کی غرض تو یہ ہے کہ اگر انسان لذت اور اصول فقہ سے بقدر ضرورت واقف ہو۔تو اس کتاب کے ذریعہ سے اس میں اجتہاد کی قوت پیدا ہو جائے۔اور اسی سبب سے میں نے اس کتاب کا نام بدایۃ المجتہد رکھا۔