ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 27
۲۷ (۲) اسی طرح حضرت عائش ہو بھی نکاح کے لئے ولی کی رضا مندی کو ضروری قرار نہیں بقيه حاشیه ت دیتی تھیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے آدم علیہ السلام سے پہلے عہد لیا پھر وہ بھول گئے۔پس جب ابن جریح ثقہ ہیں اور وہ ہمارے پاس سیلیمان بن موشی سے یہ روایت کرتے ہیں (اور وہ بھی ثقہ ہیں، کہ ان کے پاس زہری نے حدیث بیان کی تو وہ روایت قابل محبت ہوگی جبکہ ان لوگوں نے یہ روایت شنکر آگے بیان کر دی اس کے بعد خواہ وہ اسے بھول جائیں یا نہ بھولیں داس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ) یہ امر بھی ستم ہے کہ حضرت ابو ہریرہ حدیث لا عدوی اور حضرت حسن حدیث " من قتل عید اور حضرت ابن عباس کے غلام ابو معبد حديث التكبير بعد الصلوة " بيان کرنے کے بعد بھول گئے تھے تو اس سے ان احکام پر کیا اثر پڑا۔لہذا اس پر سوائے ناواقف شخص کے اور اس کے جو حق کا باطل کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہتا ہو کوئی دوسرا شخص اعتراض نہیں کر سکتا۔اور ہم نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے یہ دلیل کس قرآن سے یا کسی سنت نبوی سے یا کسی معقول حکم سے حاصل کی ہے۔کہ اگر کوئی شخص ایک روایت بیان کرنے کے بعد اسے بھول جائے تو اس روایت کا حکم باطل ہو جاتا ہے۔پس ایسے لوگوں کا دعویٰ غلط اور بلادلیل ہے (محلی ابن حزم جلده ۳۵۳ ) اس اعتراض کا جواب اور بھی متعدد آئمہ نے مختلف طریق پر دیا ہے لیکن طوالت کے خوف سے اس جگہ ان کو نقل نہیں کیا گیا۔بہر حال یہ اعتراض اصول روایت کے اعتبار سے بہت کمزور ہے کیونکہ جملہ محدثین اس کو تسلیم کرتے ہیں کہ بعض اوقات ثقہ رواۃ اپنی روایت کو بھول جاتے ہیں۔چنانچہ دارقطنی نے روایات کا ایک ایسا مجموعہ مرتب کیا ہے جس کو مختلف راویوں نے بیان کیا اور پھر اس کے بعد وہ کھول گئے کہ وہ روایت خود انہوں نے بیان کی تھی۔لیکن اس کے باوجود ایسی روایات کو محدثین نے صحیح تسلیم کیا ہے۔پھر عقلاً بھی یہ ماننا پڑے گا کہ ایک راوی جو مرفوع روایت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتا ہے اس کے مقابلہ میں اسکی ذاتی رائے یا اس کے قیاس کو ترجیح نہیں دی جاسکتی کیونکہ روایت پر عمل کرنا تو واجب ہے لیکن اس کے مقابلہ میں راوی کا قیاس کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ے۔یہ خیال کہ حضرت عائشہ نکاح کے لئے ولی کی رضا مندی کو ضروری خیال نہیں فرمائی تھیں۔یہ واقعات کے خلاف ہے۔چنانچہ ابن حزم رکھتے ہیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت عائشہ نے اپنے خاندان کے ایک لڑکے اور لڑکی سے نکاح کی بات چیت طے کی۔جب نکاح کے علاوہ دیگر امور کے متعلق فیصلہ ہو گیا تو آپ نے خاندان کے ایک شخص کو کہا کہ وہ اس نکاح کی اجازت دے۔کیونکہ عورتوں کو نکاح کی ولایت کا اختیار حاصل نہیں ہے۔(محتی ابن حزم جلد ۹ ۴۵۳) ر بقیہ حاشیہ دیکھو )