ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 26
74 قصر ہوتی ہے اور نہ ہی میں بھولا ہوں۔جب آپ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لئے منتخب فرمایا ہے مسلمانوں کے عام احکام مثلاً نمانہ میں بھول جاتے ہیں اور جب آپ سے دریافت کیا جاتا ہے تو آپ اس سے لاعلمی کا اظہار فرماتے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کا کسی معامر میں بھول جانا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ چکر پائل ہو گیا ہے تو آپ کی اُمت میں سے وہ لوگ جو خطا سے معصوم نہیں ہیں ان کا بھول جانا تو بدرجہ اولیٰ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ امر جیس کے متعلق کوئی بھول جائے اس کا حکم باطل نہیں ہو جاتا۔ر صحيح ابن حبان حواله تصب الرأية لاحاديث الهداية جلد ۳ ها) ابن حزم نے محلی میں اس کا مدلل اور مسکت جواب دیا ہے۔چنانچہ آپ لکھتے ہیں : - فَاذا صلح آن رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسِيَ آيَةً مِنَ الْقُرْ أَنِ عَمَنِ الزُّهْرِى وَمَنْ سُلَمَانُ وَمَن يَحْيى حتى لا ينسى ؛ وَقَدْ قَالَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَقَدْ عَهِدْنَا إِلَى آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِي لَكِنِ ابْنُ جُرَيْجٍ ثِقَةٌ فَإِذَا رَوَى لَنَا عَنْ سُلَيْن مِنْ مُوسَى وَهُوَ ثقَةُ أَنَّهُ أَخْبَرَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ بِخَيْرِ مُسْنَدٍ فَقَدْ قَامَتِ الْحُجَّةُ بِهِ سَوَاءً نسوة بَعْدَ أَنْ بَلَغُوهُ وَحَدَّلُوا بِهِ أَوَلَمْ يَنْسُوهُ وَقَدْنَى أَبُو هُرَيْرَةَ حديث لا عَدْوَى وَنَسِيَ الْحَسَنُ حَدِيثَ مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ وَنَسِيَ أَبُو معبد مولى ابنِ عَبَّاس حَدِيثَ التَّكْبِيرِ بَعْدَ الصَّلوةِ بَعْدَ اَنْ هَل تُوهُ يها فكَانَ مَاذَا : لَا يَحْتَرِضُ بِهَذَا الجَاهِلُ اَوْ مُدَافِعُ لِلْحَقِّ بِالْبَاطِل ولا تدْرِي فِي آتِي الْقُرْآنِ آخر في آي السُّنَنِ آمر في آي الحُكْمِ الْمَعْقُونِ وجدوا ؟ أَنَّ مَنْ حَدَّثَ بِحَدِيثِ ثُمَّ نَسِيَهُ أَن حُكْمَ ذَلِكَ الْخَبَرِ يَبْطُلُ۔مَا هُم الا في دَعْوَى كَاذِبَةٍ بِلابُرْهَانِ۔ترجمہ :۔جب یہ صحیح ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ قرآن مجید کی آیت بھول گئے تو پھر زہری اور سلیمان اور یحینی کی کیا حیثیت ہے کہ وہ نہ بھولیں دیہ اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مسجد میں ایک شخص کی قرآت سن رہے تھے تو آپ نے فرمایا کہ اش شخص نے مجھے ایک آیت یاد کرا دی ہے جو مجھے بھول گئی تھی) (بقیہ حاشیہ دیکھو مت،