ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 17
14 صحت نکاح کے لئے اولیاء کی رضامندی علماء نے اس بارہ میں اختلاف کیا ہے کہ کیا صحت نکاح کے لئے اولیاء کی رضامندی ضروری ہے یا نہیں ؟ امام مالک کا مذہب یہ ہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہو سکتا۔امام ابو حنیفہ - زفر شعیبی اور زہری کے نزدیک جب کوئی عورت اپنا نکلی ولی کی اجازت کے بغیر ایسی جگہ کرلے جو اس کے معیار کے مطابق ہو تو جائز ہے۔داؤد ظاہری نے پاکرہ اور نیہ میں فرق کیا ہے۔ان کے نزدیک با گرہ کے نکاح کے لئے ولی کا ہونا ضروری ہے لیکن نیتہ کے نکاح کے لئے ولی کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ابن القاسم نے امام مالک سے ایک اور قول نقل کیا ہے جس کے مطابق امام مالک کے نزدیک ولی کی شرط سنت ہے فرض نہیں ہے۔مندرجہ ذیل روایات بھی امام مالک کے اس مذہب پر دلالت کرتی ہیں۔اول۔۔اگر میاں بیوی دونوں بغیر ولی کے نکاح کر لیں تو امام مالک کے نزدیک اگر ان میں سے کوئی فوت ہو جائے تو دوسرا اس کا جائز وارث ہوگا۔دوم اگر کوئی عورت از خود کسی کو اپنا ولی مقرر کر کے نکاح کرلے تو یہ نکاح جائز ہوگا۔سوم :- اگر بیوہ عورت خود ہی کسی کو ولی بنا کہ اپنا نکاح کرلے تو امام مالک کے نزدیک یہ کو گیسو امر مستحب ہے۔بیان کردہ روایات سے یہ معلوم ہوا کہ امام مالک کے نزدیک شرط ولایت ص نکاح کے لئے نہیں بلکہ اتمام نکاح کے لئے ہے۔امام مالک کے بغدادی شاگردوں کے نزدیک امام صاحب کا دوست مذہب یہ ہے کہ شرط ولایت صحیت نکاح کے لئے ہے نہ کہ اتمام نکاح کے لئے۔نے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی عورت بغیر ولی کے نکاح کرے۔تو یہ نکاح شرعاً درست نہیں ہے۔پس اس صورت میں خاوند پر حق مہر اور نفقہ و غیر واجب نہ ہوگا۔اسی طرح اگر ان میں کوئی ایک فوت ہو جائے تو وہ ایک دوسر کے وارث ہونگے۔سے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بغیر ولی کے نکاح کرلے تو یہ نکاح ہو جاتا ہے لیکن ناقص رہتا ہے۔پس جب تک میاں بیوی زندہ ہیں وہ اس نکاح کو مکمل کرنے کے لئے ولی کی رضا مندی حاصل کریں۔لیکن اگر ایسی رضا مندی حاصل کئے بغیر ان میں سے کوئی ایک فوت ہو جائے تو وہ ایک دوسرے کے وارث ہونگے۔اسی طرح اللہ کی اولاد بھی ان کی جائز وارث ہوگی۔