ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page xxxiii of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page xxxiii

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے اموال کے حقداروں میں مولف القلوب کا بھی ذکر کیا ہے۔چنانچہ اس آیت کے ظاہر الفاظ کو ملحوظ رکھنے میٹھے امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ ہر زمانہ اور ہر حالات میں ذکواۃ کے اموال میں سے دیگر مقداروں کے ساتھ مولفۃ القلوب کا حصہ نکالنا ضروری ہے۔لیکن امام ابو حنیفہ اور امام مالک کا مذہب یہ ہے کہ یہ حکم اس وقت کے لئے تھا جب السلام کمزور تھا۔اور ایسے لوگوں کو امداد دینے کی ضرورت تھی۔تا کہ دلجوئی کر کے ان کو اسلام پر قائم رکھا جائے، یا ان کے شر سے بچا جائے لیکن جب اسلام کی بیٹری مضبوط اور طاقتور ہوگئیں اس وقت ایسے لوگوں کی دلجوئی کی کوئی ضرورت باقی نہ رہی۔اس بارہ میں حضرت عمر کا بھی یہی مسلک تھا۔چنانچہ حضرت عمر نے اپنی خلافت کے زمانہ میں ان کا حصہ موقوت کر دیا۔اور ایسے لوگوں کو واضح الفاظ میں یہ فرما دیا کہ " یہ وظیفہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں اس لئے عطا فرماتے تھے کہ تمہاری دلجوئی کر کے تمہیں اسلام پر قائم رکھیں لیکن اب اللہ تعالے نے اسلام کو طاقتور بنا دیا ہے۔اور تمہاری امداد سے بے نیاز کر دیا ہے۔پس اسلام کے معاوضہ میں ہم تمہیں کچھ نہ دیں گے۔جو چاہے ایمان لائے۔اور جو چاہے کافر ہو جائے۔نے۔وہ لوگ جو اہیت کے ظاہر پر عمل کرنے کی بجائے اس کی غرض وغایت کو ملحوظ رکھتے ہیں۔وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بھی اسکے مطابق تھا۔مثلاً اللہ تعالے نے قرآن مجید میں کچھ رشتے حرام قرار دیئے ہیں۔مثلاً ماں بیٹی۔بہن۔دو بہنوں کو ایک عقد میں جمع کرنا وغیرہ ان رشتوں کی حرمت کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالے فرماتا ہے کہ واحل تكُم مَا وَرَاءَ ڈالکر کہ ان کے علاوہ دیگر ت فتح القدير چندان فرار ہو ۳۱