ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 280 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 280

۲۸۰ نفی حمل کی بھی دو صورتیں ہیں۔یا مطلق دعوی کرے کہ اس کی بیوی کا حمل اس کا نہیں ہے یا یہ کہے کہ حیض کے بعد وہ اپنی بیوی کے قریب نہیں گیا اس لئے یہ اس کا حمل نہیں ہے۔اب ان دعاوی کے متعلق فقہاء کے مذہب بیان کئے جاتے ہیں :- اگر وہ یہ الزام لگائے کہ خود اس نے اپنی بیوی کو زنار کرتے دیکھا ہے۔اس کے متعلق تمام فقہاء متفق ہیں کہ ان پر لعان واجب ہے۔مجرو زنا کے الزام کی صورت میں جمہور فقہاء کا مذہب یہ ہے کہ اسپریجان واجب ہے لیکن امام مالک کے نزدیک اس صورت میں اس پر لعان واجب نہیں ہے جمہور کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَالَّذِينَ يَرْمُونَ ازْوَاجَهُم (الاية) اس آیت میں زنار کی صورت کی تعیین نہیں کی گئی اور نہ ہی الزام کی نوعیت بیان کی گئی ہے۔امام مالک کی دلیل یہ ہے کہ جن واقعات اور روایات کی بناء پر آیت لعان نازل ہوئی ہے ان سب میں شکایت کرنے والوں نے یہی بیان کیا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی دوسرے شخص کو نا جائز حالت میں دیکھ لے تو اسے کیا کرنا چاہیئے۔ایک روایت میں تو یہ الفاظ ہیں لَقَدْرَ ايْتُ بَعَيْنِي وَسَمِعْتُ بِاذْتى کہ سینے اپنی بیوی کے ساتھ ایک غیر شخص کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور ان کی باتوں کو اپنے کانوں سے سنا ہے۔ان واقعات کے بارہ میں جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا۔تو اس کے بعد آیت لعان نازل ہوئی۔اس سے معلوم ہوا کہ آیت لعان میں الزام کی صورت کی تعیین ان شکایات کے مطابق ہو چکی ہے اور وہ رولیت ہے۔امام مالک کی دوسری دلیل یہ ہے کہ دعوی ثبوت کے ساتھ ہونا چاہیے۔چونکہ اس دعوئی میں نبوت عینی شہادت ہوتا ہے۔اس لئے اس میں مطلق الزام کافی نہیں ہے۔