ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 274 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 274

۲۷۴ امام مالک کے نزدیک اس پر صرف ایک ہی کفارہ واجب ہے سوائے اس کے کہ وہ اظہار کرے پھر کفارہ ادا کرے اس کے بعد پھر ظہار کرے تو اس پر دوبارہ کفارہ واجب ہوگا۔یہی مذہب اوزاعی - احمد اور اسحاق " کا ہے۔امام ابو حنیفہ اور امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ اسپر پھر ظہار کے عوض ایک کفار واجب ہے۔لیکن اگر وہ ایک ہی مجلس میں متعدد دفعہ ظہار کرے تو اس صورت میں امام ابو حنیفہ کے نزدیک اس کی نیت دیکھی جائیگی اگر اس کی نیت تاکید کی ہے تو ایک ہی کفارہ واجب ہوگا۔لیکن اگر اس کی نیت اعادہ کی ہے تو عد و ظہار کے مطابق اسے متعدد کفارے ادا کرنے پڑیں گے۔پنی پی سعید کے نزدیک خواہ مجلس واحد ہو یا مختلف ہر صورت میں اسے متعد کفار ہے ادا کرنے ہونگے۔اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے ظہار کرے پھر کفارہ ادا کرنے سے قبل اس سے مجامعت کرے تو کیا اس پر ایک کفارہ واجب ہوگا یا دو ؟ اکثر فقہاء مثلاً مالک - شافعی ابوحنیفہ ثوری - اوزاعی - احمد اسحاق ابو ثور داؤد طبری اور ابو عبید کے نزدیک اس پر ایک ہی کفارہ واجب ہوگا۔ان کی دلیل سلمہ بن صخر بیا منی کی حدیث ہے کہ اس نے رسول اللہ کی زندگی میں اپنی بیوی سے اظہار کیا پھر کفارہ ادا کرنے سے قبل اس نے اپنی بیوی سے معیات کی اس کے بعد رسول اللہ سے دریافت کرنے آیا تو آپ نے اس کو ایک کفارہ ادا کرنے کا ارشاد فرمایا۔ایک طریق کے نزدیک اس پر ڈو کفارے واجب ہیں۔ایک کفارہ ظہار کا اور ایک کفارہ ناجائز مجامعت کرنے کا۔کیونکہ قرآن مجید کے حکم کے ماتحت وہ کھان اوا کرنے سے پیشتر اس سے مجامعت نہیں کر سکتا تھا۔ایک فریق کا مذہب یہ ہے کہ اس پر ایک کفار و بھی نہیں ہے کیونکہ اس پر کفارہ تو مجامعت کرنے سے قبل واجب تھا۔جب اس نے مجامعت کر لی تو کفارہ