ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 272
۲۷۲ وہ غلام یونسی تعلق کی بناء پر غلامی سے آزاد ہو جاتا ہے۔اسے کفار کا ظہار میں آزاد کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک ایسا غلام کفار کا ظہار میں آزاد کرتا جائز نہیں ہے لیکن امام ابو حنیفہ کے نزدیک اگر اسے کفار کو ظہار کی نیت سے آزاد کرے تو کافی ہوگا۔امام ابو حنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ اس غلام کا خریدنا اس کے لئے واجب نہ تھا۔اب جبکہ اس کو آزاد کرنے کی نیت سے اس نے خرید کیا ہے۔تو اسکی نیت کے مطابق اس پر حکم عائد ہو گا یعنی اگر وہ اسے کفارہ ظہار کے لئے آزاد کرے گا تو اس کے لئے کافی ہو گا۔امام مالک اور امام شافعی کی دلیل یہ ہے کہ جب اس نے ایسا غلام خریدا جو خریدنے کے بعد بغیر قصد کے اس پر آزاد ہو جاتا ہے تو اس کی آزادی کفارہ کے لئے کافی نہ ہونی چاہیئے۔اگر کوئی شخص دو غلاموں کا نصف نصف حصہ آزاد کر دے تو امام مالک کے نزدیک کفارہ ادا نہ ہو گا۔امام شافعی کے نزدیک ادا ہو گا۔کیونکہ یہ ایک غلام کے قائمقام ہے۔امام مالک ظاہر آیت کو لیتے ہیں۔کیونکہ اس میں ایک مستقل غلام کی آزادی کا حکم ہے۔اس لئے دو نصف نصف غلاموں کی آزادی اس کے لئے کافی نہ ہوگی۔ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کھانا کھلانے کے متعلق اختلاف کے متعلق فقہاء میں یہ اختلاف ہے کہ بہرکین کو کس قدر غلہ دینا واجب ہے۔امام مالک سے اس بارہ میں دو روایات ہیں مشہور روایت یہ ہے کہ ہر سکین کو مذ ہشام کے برابر ایک تر دیا جائے اور یہ بتلائی کے دونر کے برابر ہے کے ایک متل النبی ۶۸ تولے ۳ ماشے کے برابر ہے۔یعنی ۱۳ چھٹا تک سو تو لے ۳ ماشے۔