ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 271
مجنون کے متعلق بھی مختار راہب یہی ہے کہ اسے کفارہ میں آزاد نہیں کرنا چاہیئے۔عام فقہاء کے نزدیک چھوٹے بچے کو کفارہ میں آزاد کرنا جائز ہے لیکن متقدمین کے نزدیک ناجائز ہے۔تخت ارمذہب کے مطابق لنگڑا پن کا کوئی حرج نہیں ہے لیکن واضح لنگڑا پن آزادی میں مانع ہے۔اس اختلاف کے متعلق کسی کے پاس بھی واضح دلیل نہیں ہے سوائے اس کے کہ قربانیوں میں کونسے عیوب موثر ہیں اور کونسے نہیں ؟ جو کسی عیب کو قربانی میں موثر قرار دیتے ہیں وہ کفارہ میں بھی موثر قرار دیتے ہیں۔مشترک غلام یا مکاتب اور مدتیر کے متعلق ایک فریق کا مذہب یہ ہے ، کہ ان کو کفارہ میں آزاد نہ کیا جائے کیونکہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ اور آزادی کامل اس وقت ہوتی ہے جبکہ غلامی کامل ہو چونکہ مشترک غلام بھی کامل غلام نہیں ہوتا۔اسی طرح مکاتب یا مرتبہ غلام بھی کامل غلام نہیں ہوتا اس لئے یہ ہر سہ اس حکم کے ماتحت نہیں آسکتے۔امام ابو حنیفہ کے نزدیک اگر مہ کا تب غلام نے کچھے حصہ مکاتبت کا ادا کر دیا ہو تو اسے آزاد کرنا منع ہے وہ نہ جائز ہے۔مدتیر کے متعلق امام مالک کا مذہب یہ ہے کہ وہ بھی مکاتب کی طرح آزاد نہیں ہو سکتا۔لیکن امام شافعی کے نزدیک مدیر کی آزادی جائز ہے۔امام مالک کے نزدیک ارقم والد کو کفارہ میں آزاد کرنا جائزہ نہیں ہے کیونکہ اسم ولد کی آزادی یقینی ہے بلکہ اس کی آزادی تومد تر اور مکاتب سے بھی یقینی ہے۔کیونکہ مکاتب اگر کتابت کی رقم ادا نہ کر سکے تو اس کی غلامی پھر عود کر آتی ہے۔اسی طرح مد تبر کے متعلق بھی قاضی حکم دے سکتا ہے کہ اس کے مالک کے قرضہ کی ادائیگی کے لئے اسے فروخت کیا جائے۔لیکن ام ولد کے متعلق ہیں قسم کے امکانات نہیں ہیں لہذا اسے کفارہ میں آزاد کرنا جائز نہیں ہے