ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 269 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 269

نہیں ہے بلکہ ان کے نزدیک روزوں کے دوران میں مجامعت کر سکتا ہے۔وجہ اختلاف بعض کے نزدیک ظہار کے کفارہ کے روزوں کے لئے "من قبْلِ أَن يَتَما شا کی شرط ضروری ہے لیکن بعض کے نزدیک ظہار کا کفارہ بھی قسم کے کفارہ کے مشاہد ہے جس نے اس شرط کو ضروری قرار دیا ان کے نزدیک دوبارہ روزے مکمل کرے۔اور جس نے اس کو قسم کے کفارہ کے مشابہ قرار دیا اس کے نزدیک دوبارہ روزے مکمل کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ قسم کا کفارہ قسم توڑنے کے بعد واجب ہوتا ہے۔اس۔درمیان میں توڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ظہار کے کفارہ کے متعلق ایک اختلاف یہ ہے کہ غلام جو آزاد کیا جائے وہ مومن ہونا ضروری ہے یا غیر مومن غلام بھی آزاد ہو سکتا ہے۔امام مالک اور امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ اس کے لئے مومن ہو نا شرط ہے۔لیکن امام ابو حنیفہ کے نزدیک کا فر غلام بھی آزاد ہو سکتا ہے۔لیکن شرط یہ ہے کہ وہ مشرک یا مرتد نہ ہو۔امام مالک اور امام شافعی کی دلیل یہ ہے کہ غلام کو آزاد کرنا ایک ثواب کا کام ہے۔اس لئے مسلمان غلام ہی آزاد کرنا چاہیے۔جیسا کہ کفارہ مقتل میں مسلمان غلام آزاد کرنے کا حکم ہے۔چنانچہ کفارہ قتل پر قیاس کرتے ہوئے یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ کفارہ ظہار میں بھی مسلمان غلام آزاد کیا جائے۔گو یا کفارہ قتل میں غلام کی آزادی کو مومن کی قید سے مقید کیا گیا ہے۔اور کفار کا ظہار میں مطلق غلام کی آزادی کا حکم ہے۔لہذا اس مطلق کو مقید پر قیاس کرتے ہوئے دونوں کا ایک ہی حکم ہوگا۔امام ابو حنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ کفارہ ظہارہ میں ظاہر حکم پر عمل کرنا چاہیئے یعنی مقید حکم کو مقید پر اور مطلق کو مطلق پر محمول کرنا چاہیئے کیونکہ ہر ایک کا حکم اپنی اپنی جگہ پر قائم ہے۔یعنی جہاں " مؤمن " کا لفظ آیا ہے وہاں مومن غلام مراد