ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 259 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 259

۲۵۹ اب خود کا معنی محض مجامعت ہو یہ ممکن نہیں ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَا اس آیت سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ مجامعت سے قبل کفارہ ادا کرنا ضروری ہے۔نیز یہ کہ کفارہ سے قبل مجامعت حرام ہے تو معلوم ہوا کہ اس جگہ عود کے معنی صرف ارادہ جماع ہے۔امام مالک اور ان کے موافقین کہتے ہیں کہ اگر عود کے معنے محض امساک مینی طلاق سے رکنے کے ہیں تو ظہار کے معنے امساک سے بالکل برعکس ہونے چاہیئے یعنی ظہار کے معنے طلاق کے ہونے چاہئیں۔اور یہ مذہب کسی کا بھی نہیں ہے غرض فقہاء نے مختلف نتیجے نکالتے ہوئے اس مسئلہ کا تجزیہ کیا ہے اور مختلف نتائج اخذ کئے ہیں مثلا داؤد ظاہری نے خود کے معنی ظہار میں تکرار کے کئے ہیں جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے۔یا دوسرے فقہار نے عود کے سننے مجامعت کے یا امساک کے یا مجامعت کا ارادہ کے گئے ہیں۔این ارشدان مختلف نتائج کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ عود کے معنی کرایہ ظہار کے تو نہیں ہو سکتے کیونکہ تکرار ظہار تو تاکید کے لئے ہے اور تاکید سے کفار و لازم نہیں آتا۔اسی طرح خود کے معنے مجامعت کی نیت سے امساک اور رکنے کے بھی نہیں ہو سکتے کیونکہ امساک تو پہلے سے موجود ہی ہے کیونکہ ابھی تک اس نے طلاق نہیں دی لہذا امساک تو موجود ہوا اب مجامعت کا ارادہ باقی رہ گیا۔پس جب اس نے مجامعت کی نیت سے امساک کیا تو گویا اس نے نفس مجامعت کا ہی ارادہ کیا لہذا ثابت ہوا کہ عود کے معنی مجامعت کے ارادہ کے ہی ہیں۔امام شافعی ہو نے جو یہ کہنا ہے کہ خود کے معنی محض ارادہ امساک ہے ان کا لے ترجمہ :۔ان کے لئے ضروری ہے کہ قبل اس کے کہ وہ دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کو چھوٹیں ایک غلام آزاد کریں۔(مجادلہ )