ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 258 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 258

۲۵۸ میں جو یہ کہا گیا ہے۔ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا۔اس میں " عود کے معنی اسلام میں عود کرتا ہے وہ لوگ جو کفارہ کے لئے خود کے قائل ہیں انہوں نے بھی عود کے مفہوم میں اختلاف کیا ہے۔امام مالک سے اس بارہ میں تین روایات منقول ہیں :- (1) خود کا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھنے کا ارادہ کرے اور مجامعت کا قصد کرے۔(۲) صرف مجامعت کا قصد کرے یہ ان کے اصحاب کا مشہور قول ہے اور یہی مذہب امام احمد اور امام ابو حنیفہ کا ہے۔(۳) اس سے عملاً مجامعت کرے یہ امام مالک کے اصحاب کی ضعیف روایت ہے۔امام شافعی کے نزدیک عود کا مطلب صرف امساک ہے یعنی بیوی کو اپنے پاس رکھنے کا ارادہ کرنا۔امام شافعی یہ کہتے ہیں کہ جو شخص ظہار کے بعد اسے اپنے پاس رکھتا ہے اور طلاق نہیں دیتا جبکہ وہ اس عرصہ میں طلاق دے سکتا تھا۔دس سے یہ ثابت ہوا کہ اس نے اپنے قول سے عملا رجوع کر لیا ہے۔پس اس رجوع کے بعد بیوی کی حرمت کو حکمت میں تبدیل کرنے کے لئے کفارہ ادا کرے۔داؤد اور اہل ظاہر کا مذہب یہ ہے کہ عود کا مطلب دوسری دفعہ ظہار کرتا ہے یعنی جب کوئی شخص ایک دفعہ ظہار کرے تو اس پر کوئی کفارہ نہیں ہے۔پھر جب دوبارہ ظہار کرے گا تو اس پر کفارہ لازم ہو گا کیونکہ ان کے نزدیک نخود کا یہی مطلب ہے۔امام مالک کا مشہور مذہب دو اصولوں پر مبنی ہے۔یعنی کفارہ کا وجوب اس وجہ سے ہوتا ہے کہ اس شخص نے ظہار کے ذریعہ جس چیز کو اپنے اوپر حرام کیا تھا اب اس سے رجوع کر کے وہ اپنے لئے حلال کر رہا ہے۔یہ رجوع یا مجامعت سے ہو سکتا ہے یا مجامعت کے عزم و ارادہ سے