ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 249 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 249

: ۲۴۹ (۱) خاوند کے لئے سہولت۔(۲) بیوی سے ضرر کا انبالہ - اگر ہم کنیز کے لئے چارہ ماہ سے کم مدت مقرر کریں تو اس سے کنیز سے ضرر کا ازالہ تو ہو جائے گا لیکن خاوند کو زیادہ تنگی ہو جائے گی کیونکہ اسے چار ماہ کے اندر رجوع کا حق تھا اب وہ دوبا دمیں محدود ہو گیا حالانکہ غلام کی نسبت آزاد اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کو سہولت دی جائے اور اسے ضرر سے بچایا جائے۔لہذا اس قیاس کے ماتحت ایلاء کی مدت صرف اس صورت میں کم ہونی چاہیئے جبکہ خاوند غلام ہو اور بیوی آزاد ہو۔اور یہ مذہب کسی فقیہہ نے نہیں اختیار نہیں کیا بہذا مناسب یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں کو اس حکم میں برا بر قرار دیا جائے۔وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ غلامی کی وجہ سے مدیت ایلار میں کمی ہو جاتی ہے ان میں یہ اختلاف باقی ہے کہ اگر ایلار کے بعد کنیر آزاد ہو جائے تو کیا اس صورت میں ایلاء کی مدت آزاد کے برابر ہو جائے گی یا نہیں ؟ امام مالک کے نزدیک اس صورت میں ایلاد کی مدت زیادہ نہ ہوگی لیکن امام ابو حنیفہ کے نزدیک زیادہ ہو جائے گی یعنی اگر بیوی کنیز ہو اور وہ ایلاء کی مدت گزار رہی ہو کہ اس دوران میں وہ آزاد ہو جائے تو اس صورت میں وہ دوماہ کی بجائے چار ماہ ایراد کی مدت گزارے گی۔ابن القاسم کے نزدیک وہ نابالغ لڑکی جو تعلقات زوجیت کے قابل نہ ہو اس کے لئے ایلار نہیں ہوتا۔کیونکہ تعلقات زوجیت ترک کرنے سے ایسے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔لیکن اگر وہ اس دوران میں بالغ ہو جائے تو وہ بلوغ کے وقت سے چار ماہ کی مدت مکمل کرے۔اسی طرح خصی اور وہ شخص جو جماع پر قادر نہ ہو اس کے لئے بھی ایلاء نہیں ہے دسواں اختلاف یہ ہے کہ کیا ایکار سے رجوع کے لئے یہ ضروری ہے کہ عدت کے اندر اندر خاوند تعلقات زوجیت بھی قائم کرے یا یہ ضروری نہیں ہے؟