ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 229 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 229

۲۲۹ امام مالک کا مذہب یہ ہے کہ چار ماہ دس دن کی مدت کے لئے یہ شرط ہے کہ اس دوران میں اسے کم از کم ایک مرتبہ حیض آجائے تاکہ یہ یقین ہو جائے کہ اس کا رحم حمل سے صاف ہے پس اگر اس مدت میں اسے حیض نہ آئے تو اس کے متعلق یہ شبہ ہو گا کہ وہ حاملہ ہے لہذا اسے مدت حمل یعنی نو ماہ تک عدد گزارنی ہوگی۔امام مالک کی ایک روایت یہ بھی ہے کہ ان کے نزدیک بعض عورتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کو چار ماہ دس دن تک حیض نہیں آتا بلکہ اس عرصہ کے بعد آتا ہے اور وہ حاملہ بھی نہیں ہوتیں تو اس کے متعلق دو صورتیں ہونگی۔اول :- اگر وہ ایسی عورتیں ہیں جن کی عادت یہ ہے کہ انہیں چار ماہ دس اون سے زیادہ عرصہ تک حیض نہیں آتا تو ان کے متعلق یہ حکم ہے کہ وہ حیض آنے تک انتظار کریں۔خواہ یہ مدت چار ماہ دس دن سے زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔دوم۔۔اگر وہ ایسی عورتیں ہیں کہ انہیں عاداً چار ماہ دس دن سے زیادہ عرصہ تک حیض نہیں آتا بلکہ شاذ و نادر طور پر کبھی کبھی ان کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آجاتا ہے۔تو وہ چار ماہ دس دن تک عدت گزاریں۔اگر اس عرصہ میں ان کا حمل ظاہر نہ ہو تو ان کی عدت مکمل ہو گئی اور دو دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہیں۔یہی مذہب امام ابو حنیفہ - شافعی اور توری گیا ہے۔وہ عورت جو حاملہ ہو اور اس کا خاوند فوت ہو گیا ہو اس کے متعلق جمہور فقہاء کا مذہب یہ ہے کہ اس کی عدت وضع حمل تک ہے ان کا استدلال اللہ تعالیٰ کے مندرجہ بالا عمومی ارشاد سے ہے۔یعنی : وَ أَوَلاتِ الْأَعْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ اگر چہ یہ آیت طلاق کی عدت کے ضمن میں بیان ہوئی ہے تاہم یہ عام حکم ہے۔اہ ترجمہ :۔اور جن عورتوں کو حمل ہو ان کی عدت وضع حمل تک ہے (طلاق لح)