ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 228
۲۲۸ نفقہ بھی دینا پڑے گا۔حضرت عمر سے ایک روایت منقول ہے کہ آپ نے فاطمہ کی روایت کے متعلق فرمایا :- هذا لا تَدَعُ كِتَابَ نَبِيِّنَا وَسُئَتَهُ لِقَوْلِ امْرَأَةِ له اس ارشاد میں آپ کا منشاء اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مد نظر تھا۔اسْكِنُوهُنَّ مِن حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وَجْدِ كُمْ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے بہ مشہور و معروف امر تھا کہ آپ جہاں سگئی لازم قرار دیتے وہاں نفقہ بھی لازم قرار دیتے تھے این رشد فرماتے ہیں کہ سکتی اور نفقہ میں فرق کرنا بڑا مشکل ہے اور میں نے یہ مذہب اختیار کیا ہے کہ سکتی ہو اور نفقہ نہ ہو اس کے مذہب کی بنیاد کمزور ہے۔وہ عورت جس کا خاوند فوت ہو گیا ہو اس کے متعلق سب کا اتفاق ہے کہ آزاد مرد کی آزاد بیوی کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرمانا ہے۔وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَا جَايَتَرَبَّصْنَ با نفسِهِنَّ اَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا له حاملہ عورت اور وہ لونڈی جس کو چار ماہ دس دن تک حیض نہ آئے اور اس کا خاوند فوت ہو چکا ہو ان کی عدت میں اختلاف ہے۔له ترجمہ : حضرت عمر نے فرمایا کہ ہم ایک عورت کے قول کی خاطر رسول کریم صلی للہ علیہ وسلم کی سنت اور آپ کی حدیث کو چھوڑ نہیں سکتے۔(حاشیہ منتقی جلد ۲ ص ۶۲) ترجمہ :۔اور تم میں سے جن لوگوں کی روح قبض کرلی جاتی ہے اور وہ اپنے پیچھے بیویاں چھوڑ جاتے ہیں چاہیے کہ وہ (یعنی بیویاں) اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن تک روس رکھیں (بقرہ )