ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 159 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 159

149 ضلع کس کے لئے اس کے متعلق فقہار میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ عاقلہ بانہ جائز ہے اپنا خلع حاصل کر سکتی ہے۔لیکن لونڈی اپنے مالک کی رضا مندی کے بغیر ضع حاصل نہیں کر سکتی۔اسی طرح سفی ہے اور کم عقل صورت اپنے ولی کی رضامندی کے بغیر خلع حاصل نہیں کر سکتی سے ہو اپنے بڑے بھلے کی تمیز نہ کرے۔بعد میں اس کے عقد میں رہ کر اس کی نافرمانی کروں اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی حاصل کروں۔چنانچہ ابن ماجہ کی روایت میں ضلع کی درخواست کی وجہ صاف طور پر لا اطيق کے بُعْضًا " کے الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔کہ میں شدید نفرت کی وجہ سے اس کے عقد میں رہنا برداشت نہیں کر سکتی۔طبرانی کی ایک روایت میں اس نفرت کی وجہ ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔واللهِ مَا كَرِهْتُ مِنْهُ شَيْئًا إِلَّا دَمَامَتَہ۔کہ خدا کی قسم مجھے اس سے نفرت کی اس کے سوار اور کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ بدصورت ہے (بحوالہ منتقی جلد ۶۳) ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ ضلع کے جواز کے لئے کسی معین وجہ کا پایا جانا ضروری نہیں ہے بلکہ اس کی بنیادی وجہ عورت کی اپنے خاوند سے نفرت ہے یہ نفرت خواہ اس وجہ سے ہو کہ اس کا خاوند ظالم ہے۔اس کو ناحق مارتا ہے یا بیمار ہے یا اس کے نان و نفقہ کا انتظام نہیں کرتا۔اور اسے ناحق تنگ کرتا ہے اس پر جھوٹے الزامات لگاتا ہے وغیرہ۔ان تمام صورتوں میں عورت ضلع کی درخواست کر سکتی ہے لیکن اس بارہ میں قاضی یا حاکم وقت کی ذمہ داری بہت اہم ہے اس کے لئے اس بات کا اطمینان کرنا ضروری ہوگا۔کہ نفرت کی جو وجوہ بیوی پیش کر رہی ہے وہ درست ہیں۔اور وہ کسی کے اکسانے کی وجہ سے ایسا نہیں کر رہی۔اس کے لئے اس کے خاوند کو پوری آزادی ہوگی کہ وہ یہ ثابت کرسکے کہ وجوہات نفرت فرضی ہیں اور اس کی بیوی والدین یا کسی دوسرے شخص کے اُکسانے کی وجہ سے درخواست کر رہی ہے۔نہیں اگر یہ ثابت ہو جائے کہ وجوہات نفرت فرضی ہیں یا اسے کوئی اور شخص اکسا رہا ہے تو اس صورت میں قاضی یا حاکم وقت اُکسانے والوں کے خلاف تعزیری حکم نافذ کر سکتا ہے۔ورنہ نفس ضلع کے لحاظ سے عورت کو وہی حق حاصل ہے جو مرد کو طلاق دینے کا ہے جس طرح کوئی شخص مرد کو طلاق دینے سے روک نہیں سکتا ہی طرح کوئی شخص عورت کو ضلع لینے سے بھی روک نہیں سکتا۔اگر وجوہات نفرت معقول اور درست ہوں تو اس صورت میں اس کی درخواست ضلع کو منظور کر کے ان دونوں کے درمیان علیحدگی کا فیصلہ کیا جائے گا۔نیز اگر یہ ثابت ہو جائے کہ خاوند اپنی بیوی کو ناجائز تنگ کرتا ہے اور یہ ثابت ہو جائے کہ وہ اسے اس لیے تنگ کرتا ہے کرتا اسکی بیوی خلع کی درخواست کرے اور وہ حق مہر اور دیگر مطالبات سے پہنچ جائے تو اس صورت میں قاضی یا حاکم وقت آگی درخواست منظور کر کے تقریباً خاوند سے فی مراد یہ دیگر مطالبات بھی اسکی بیوی کو دلا سکتا ہے۔ضلع کے متعلق ابن رشد کا یہ فلسفہ درست ہے کہ ضلع عورت کے اختیار میں اس لئے رکھا گیا ہے کہ مرد کے اختیار میں طلاق رکھی گئی ہے۔اسلامی احکام میں مساوات اور انصاف کے پہلو کو خاص طور پر ملحوظ رکھا گیا ہے ضلع کے متعلق مندرجہ بالا احکام سے یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ اسلام نے جہاں مرد کو طلاق کا اختیار دیا ہے وہاں عورت سے بھی بے انصا لئے بھی نا موافق