ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 158
۱۵۸ دو قرآنی میں الفاحشة " کی تعبیر زنا سے کی ہے۔داؤد کے نزدیک ضلع اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک اس امر کا خوف نہ ہو کہ وہ دونوں اللہ تعالٰی کی حدود کو قائم نہ کر سکیں گے۔نعمان اس طرف گئے ہیں کہ ضلع اس صورت میں جائز ہے جبکہ فریقین کو ایک دوسرے سے ضرر کا اندیشہ ہو۔این ارشد فرماتے ہیں کہ ضلع کا فلسفہ یہ ہے کہ ضلع عورت کے اختیار میں اس لئے رکھا گیا ہے کہ مرد کے اختیار میں طلاق رکھی گئی ہے یعنی جب عورت کو مرد کی طرف سے کوئی تکلیف ہو تو اس کے اختیار میں ضلع رکھا گیا ہے۔اور جب مرد کو عورت کی طرف کوئی تکلیف ہو تو اسے طلاق کا اختیار دیا گیا ہے۔تو اس صورت میں اسے اس کا مال چھین لینے کی اجازت ہے بلکہ اسیس استثناء کا تعلق فَاَمْسِكُوهُنَّ فِى الْبُيُوتِ سے ہے۔یعنی اگر وہ فاحشہ کی تحریک ہوں تو صرف اس صورت میں ان کو گھروں سے نکلنے سے روکا جاسکتا ہے۔اس کا ضلع پ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اه در حقیقت خلع کے جواز کی جس قدر صورتیں اوپر بیان کی گئی ہیں وہ کوئی اصولی حیثیت نہیں کرتیں بلکہ وقتی حالات کے ماتحت مختلف فقہاء نے مختلف فتوے دئے ہیں۔ان فتووں کو دیکھ کر ان فقار کے شاگردوں نے انہیں اصولی حیثیت دے دی اور ان فتووں پر مستقل مذہب کی بنیاد رکھ دی۔خلع کے جواز کے متعلق ثابت بن قیس کی بیوی کا واقعہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور اس واقعہ کو صحیح بخاری اور نسائی کے علاوہ دیگر متعدد محدثین نے نقل کیا ہے۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ثابت بن قیسی کی بیوی نے خود اس امر کا اعتراف کیا تھا کہ مجھے اپنے خاوند کے متعلق کسی قسم کی شکایت نہیں ہے نہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے ضرر کا اندیشہ تھا نہ اس کو خاوند سے بدسلوکی کی شکایت تھی نہ خاوند کو اس سے کسی قسم کی اخلاقی شکایت تھی بلکہ اس کی بیوی کے دل میں کسی وجہ سے اس کے متعلق شدید نفرت پیدا ہو گئی تھی جس کے ہوتے ہوئے وہ اس کے عقدہ میں رہنا برداشت نہیں کرتی تھی۔یہی وجہ ہے کہ اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس امر کا اعتراف کیا کہ مجھے نہ تو اس کے دین کے متعلق کوئی شکایت ہے نہ کوئی اخلاقی شکایت ہے بلکہ مجھے چونکہ اس کے متعلق سخت نفرت ہو گئی ہے اس لئے میں یہ پسند نہیں کرتی کہ اسلام قبول کرنے کے بقیه حاشیه ۵۵ اپر)