ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 93
۹۳ ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : وَلَا تُمْسِكُوا بِعصير الكوافيرا (تحت (۲) مشرکہ (لونڈی سے نکاح کرنے کے متعلق اختلاف ہے۔(۳) اس پر بھی سب کا اتفاق ہے کہ کتابیہ (آزاد) کا نکاح جائز ہے۔ہاں ابن عمر کے متعلق ایک روایت آتی ہے کہ وہ جائز نہیں سمجھتے تھے (۴) کتابیہ لونڈی سے نکاح کرنے کے متعلق اختلاف ہے۔(۵) کتابیہ (لونڈی سے بغیر نکاح کے تعلقات قائم رکھنا جائز ہے یا نہیں ؟ مشرکہ ٹونڈی کے نکاح میں اختلاف کا سبب یہ ہے کہ ایک طرف اللہ تعالیٰ کا عمومی ارشاد ہے:۔وَلَا تُمْسِكُوا بِعصم الكوافير ممتحنه عام اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِن دوسری طرف اللہ تعالٰی کا یہ ارشاد بھی موجود ہے :- والمُحْصَنَتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ اس آیت کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ لونڈی خواہ مشترکہ ہو یا کتا ب یہ دونوں سے نکاح کرنا جائز ہے۔جمہور فقہار اس کو جائز قرار نہیں دیتے۔اور وہ اول الذکر دو آیات کے عمومی حکم کے مطابق عمل کرتے ہیں لیکن طاؤس اور مجاھد اس کو جائز قرار دیتے ہیں۔ان کا استدلال ایک تو مندرجہ بالا آیت سے ہے اس میں لونڈی کے نکاح کی اجازت کسی خاص وصف کے ساتھ مقید نہیں کی گئی بلکہ عام اجازت دی گئی ہے۔دوم وہ ایک روایت سے استدلال کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ غزوہ اور طاس میں جو لونڈیاں پکڑی ہوئی آئی تھیں وہ مشرکہ تھیں اور مسلمانوں نے ان سے نکاح کر لئے تھے چنانچہ ان سے عرض کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ نے دریافت کیا تو آپ نے ه تترجمہ: اور کا فرعورتوں کے ننگ و ناموس کو تم قبضہ میں نہ رکھو (ممتحنہ عا) ترجمہ: اور تم مشرک عورتوں سے جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں نکاح نہ کرو۔(بقرہ (۲۷۴) ترجمہ : اور پہلے سے منکوجہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں سوائے ان عورتوں کے جو تمہاری ملکیت میں آجائیں۔ے عزل سے مراد ہر تھے کنٹرول ہے یعنی جماع کے ایسے طریقے جن سے قرار حمل نہ ہو۔دقاء ع ۱۲۴