ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 91
۹۱ اس آیت میں عام حکم ہے۔کہ لونڈیوں سے نکاح کرنا جائز ہے۔خواہ آزاد ھورت سے نکاح میسر ہو یا نہ ہو۔گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو یا نہ ہو۔ابن رشد کہتے ہیں کہ دلیل خطاب اس عمومی حکم سے زیادہ قوی ہے۔کیونکہ عمومی حکم میں زوج کی صفات نہیں بیان کی گئیں بلکہ اس میں صرف لونڈیوں میں سے نکاح کی عام اجازت دی گئی ہے۔لیکن دلیل خطاب میں نکاح کے لئے واضح شرط کا بیان موجود ہے کہ اس شرط کی عدم موجودگی میں نکاح نہیں ہونا چاہیئے۔جمہور کے نزدیک لونڈی سے نکاح جائز ہے۔اگرچہ اس میں یہ پہلو بھی موجود ہے کہ اس ذریعہ سے ایک آزاد مرد خود اپنی اولاد کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے میں محدود معاون بنتا ہے اے اس بات میں دو اور امور میں بھی اختلاف ہے اول :- اگر کسی شخص کے عقد میں ایک آزاد عورت موجود ہو تو کیا اس عورت کی موجودگی میں وہ لونڈی سے شادی کر سکتا ہے یا نہیں ؟ امام ابو حنیفہ کے نزدیک پہلے سے اس کے عقد میں ایک آزاد عورت کا ہوتا اس یات کی علامت ہے کہ اسے آزاد عورت سے شادی کرنے کی توفیق ہے اس لئے وہ لونڈی سے شادی نہیں کر سکتا۔امام مالک سے اس بارہ میں دونوں قول نقل کئے گئے ہیں دوم - خیس شخص کو نہ آزاد عورت سے شادی کی توفیق ہو نہ وہ خوف گناہ سے محفوظ ہو کیا وہ ایک سے زیادہ لونڈیوں سے شادی کر سکتا ہے یا نہیں ؟ جو یہ کہتا ہے کہ اگر اس کے عقد میں آزاد عورت ہو تو یہ عدم توفیق کی علامت نہیں ہے اور اسے خون گناہ بھی نہیں ہے۔اس کے نز دیک آزاد عورت کی موجودگی میں لونڈی سے نکاح جائز نہیں ہے۔جس کے نزدیک خوف گناہ ایک بیوی کی موجودگی میں بھی ہو سکتا ہے۔جیسا کہ بیوی کی عدم موجودگی میں ہوتا ہے۔کیونکہ ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کے لئے کہ یہ انسوی صورت نہیں ہے۔جبکہ لونڈی غیر کی ہو۔اور اس سے نکاح کیا جائے۔