ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 78
LA وجه اختلاف یہ اختلاف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد میں اختلاف کی بناء پر ہے کہ :۔اِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ له بعض نے اس سے یہ مفہوم لیا ہے کہ اس رضاعت سے وہ رضاعت مراد ہے جو ودھ پلانے کی مدت کے اندر اندر ہو۔خوا کسی حالت میں ہو یعنی ماں کا دودھ پیتا ہو یا نہ پیتا ہو۔کیونکہ مجاعت سے مراد بچے کا دودھ پینے کا عرصہ ہے۔بعض کے نزدیک اس سے مراد یہ ہے کہ جب تک بچہ ماں کا دودھ پیتا ہے وہ اس کی مجاعت کی عمر ہے۔خواہ پورے دو سال کے عرصہ میں ہو یا دو سال کے اندر دودھ چھوڑنے کے بعد اس پر رضاعت کا حکم نہیں لگتا۔گویا اختلاف اس بات میں ہے کہ رضاعت سے مراد وہ زمانہ ہے جبکہ بچے کو دودھ کی طبعی احتیاج ہوتی ہے یعنی دو سال کا عرصہ یا اس سے مراد وہ عرصہ ہے جبکہ بچے کو طبعی احتیاج نہیں رہی بلکہ دودھ چھوڑنے کی وجہ سے وہ اس احتیاج سے آزاد ہو چکا ہے۔خواہ وہ دو سال کے عرصہ سے کم ہی ہو۔رضاعت کے عرصہ میں بھی اختلاف ہے امام نہ فرد کے نزدیک یہ عرصہ دو سال تک ہے۔امام مالک کے نزدیک اگر دو سال سے کچھ دن زیادہ بھی ہو جائیں تو کوئی جرح نہیں ہے یہ ان کا مشہور قول ہے۔لیکن ایک دوسرے قول کے مطابق یہ عرصہ دو سال تین ماہ تک ہے۔امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ عرصہ دو سال چھ ماہ تک ہے۔یہ اختلاف آیت رضاعت کا حدیث عائشہؓ سے اختلاف کی بناء پر ہے۔آیت رضاعت یہ ہے:۔وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ له اس آیت کے مفہوم سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دو سال کے بعد رضاعت کا عرصہ ختم اه ترجمه: اصل رضاعت وہ ہے جو بھوک سے ہو یعنی دودھ پینے کے عرصہ کے اندر اندر ہو د یعنی دو سال کے اندر کے ترجمہ : اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال تک دودھ پلائیں۔(بقرہ ح ۳۰) به