ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 75
۷۵ دوم : حديث سهلة۔اس روایت کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سہلہ کو سالم کے متعلق ارشاد فرمایا: ارضِعِيهِ خَمْسَ رَضَعَاتِه اسی طرح اس روایت کے ہم معنی ایک روایت حضرت عائشہؓ سے ان الفاظ میں مروی ہے۔قَالَتْ كَانَ فِيْمَا نَزَلَ مِنَ الْقُرانِ عَشْرَ رَضَعَاتٍ مَعْلُومات ثُمَّ سخن بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ نَعُونَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُنَّ مِمَّا يُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِه پس جس شخص نے ان احادیث پر قرآن مجید کے ظاہر حکم کو ترجیح دی ہے وہ تو یہ کہتا ہے کہ ایک دفعہ یا دو دفعہ چوسنا بھی حرمت کے لئے کافی ہے۔اور جس نے ان احادیث کو قرآن مجید کا مفسر کہا ہے اس نے احادیث اور قرآن مجید میں اس طرح موافقت دہی ہے کہ روایت لا تُحْرِمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ سے دلیل خطاب کے ماتحت یہ مفہوم نکلتا ہے کہ تیکن یا تین سے زیادہ مرتبہ پستان چوسنے سے حرمت واقع ہوتی ہے۔اے (آپ نے سہلہ کو فرمایا ، اس بچے کو پانچ مرتبہ دودھ پلاؤ۔ے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ قرآن مجید میں کوئی ایسی آیت موجود ہے جس کا ظاہری مفہوم یہ ہو کہ دس و قعدہ یار پانچ دفعہ دودھ پینے سے حرمت لازم آتی ہے۔بلکہ اس کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ آیت و امان کے التي أرضعنكم سے پہلے یہ مطلب اخذ کیا جاتا تھا کہ رضاعی ماں وہ ہوتی ہے جس کا دور ہے دیس دفعہ پیا جاوے لیکن بعد میں رسول کریم کے ارشادات سے یہ سمجھا گیا کہ اس سے مراد صرف پانچ وقعہ دودھ پیتا ہے۔ے ترجمہ : حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جب قر آن مجید نازل ہوا تھا اس وقت حرمت کی مقدار دیس رضعات تھی۔اس کے بعد یہ حکم منسوخ ہو کر پانچ رضعات رہ گئے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو اس وقت بھی قرآن مجید میں ہی حکم پڑھا جاتا تھا ملا ہو جائو کتاب النکارت با محل گرم مادون میری سایت فوق : اس روایت میں حضرت عائشہؓ کا مطلب یہ ہے کہ آیت قرآنی اُمَّهُتُكُمُ التِي الضَعْنَكُمْ کا مطلب یہی سمجھا جاتا تھا۔کہ بچے کو پانچ مرتبہ دودھ پلایا جاوے۔تو حرمت کا حکم لازم آتا ہے۔