ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 74 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 74

۷۴ ودھ کی مقدار فقہاء میں سے ایک گروہ کا مذہب یہ ہے کہ حرمت کے لئے دودھ کی کسی خاص مقدار کی شرط نہیں ہے۔یہ مذہب امام مالک اور ان کے ساتھیوں کا ہے۔اور یہی روایت حضرت علی اور ابن مسعود سے کی گئی ہے۔علاوہ ازین ابن عمر اور ابن مسعود امام ابوحنیفہ اور آپ کے اصحاب ثوری اور اوزاعی کا بھی یہی مذہب ہے۔بعض فقہاء دودھ کی مقدار کی تعین کے قائل ہیں ایسے فقہاء پھر تین گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ایک گروہ کا مذہب یہ ہے کہ ایک دفعہ یا دو دفعہ چوسنے سے حرمت لازم نہیں آتی۔یہ مذہب ابو ثور اور ابو عبید کا ہے۔دوسرے گروہ کا مذہب یہ ہے کہ کم از کم پانچ وقعہ چوسنے سے حرمت لازم آتی ہے یہ امام شافعی کا مذہب ہے۔تیسرے گروہ کا مذہب یہ ہے کہ کم ازکم دس وقعہ چوسنے سے حرمت لازم آتی ہے وجہ اختلاف | اس اختلاف کی وجہ قرآن مجید کا ایک عام حکم او بعض احادیث کا آپس میں تعارض ہے۔قرآن مجید کا عمومی حکم اللہ تعالٰی کا بی ارشا د ہے، وانفت و انتی از معلم اس آیت میں لفظ " ارضعْنَكُم" سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس جگہ ارضاع کا مفہوم پایا جائے گا حرمت لازم آئیگی۔احادیث جو ایک دوسری سے متعارض بیان ہوئی ہیں۔مندرجہ ذیل ہیں :- اول - حدیث عائش :- وشه قَالَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَا تُحْرُمُ الْمُصَّةُ وَلَا الْمُضَتَانِ أوِ الرَّضْعَةُ وَالرّضُعَتَانِ به ے ترجمہ :۔تمہاری (رضائی) مائیں وہ ہیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ( النساء ع ۴) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ایک واقعہ۔یا دو دفعہ دودھ چوسنے سے حرمت لازم نہیں آتی۔یا آپنے فرمایا کہ ایک دفعہ یا دو دفعہ دودھ پینے سے حرمت لازم نہیں آتی۔ایک اور روایت میں لا تُخْرِمُ الإمْلَاجَةُ وَلَا الإملاجان کے الفاظ منقول ہیں۔اوران سب کا مفہوم ایک ہی ہے۔(ابو داؤد باب میکرم مادون خمس رضعات)