ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 52 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 52

۵۲ واجب ہوگا۔گویا امام مالک کے نزدیک بھی خلوت صحیحہ سے کل مہر واجب ہو جاتا ہے۔اگر بیوی یہ دعوی کرے کہ اس کے خاوند نے اس سے مجامعت کی ہے اور خاوند انکار کرے۔تو اس کے متعلق امام مالک کا مشہور قول یہ ہے کہ اس بارہ میں بیوی کا قول معتبر ہوگا۔ایک مذہب یہ ہے کہ اگر بیوی باکرہ ہو تو جماع کے متعلق اختلاف کی صورت میں عورتیں اس کو دیکھ کر بتائیں۔دیعنی طبی معائنہ کے نوریعہ یہ پتہ کیا جائے، کہ مجامعت ہو چکی ہے یا نہیں۔میاں بیوی کے مندرجہ بالا اختلاف بیان کی صورت میں امام شافعی اور اہل ظاہر کا مذہب یہ ہے کہ اس بارہ میں خاوند کا قول حلف کے ساتھ معتبر ہو گا۔کیونکہ وہ مدعلی یہ ہے۔وجہ اختلاف اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ بعض کے نزدیک قسم دلانے کا ایک خاص باعث ہے۔اور وہ یہ ہے کہ ایک فریق کی پوزیشن زیادہ قوی ہوتی ہے لیکن دوسرے فریق کی کمزور اور ثبوت کسی کے پاس بھی نہیں ہوتا۔ایسے موقعہ پر جسکی پوزیشن زیادہ قوی ہو اس سے قسم دلانی چاہیئے خواہ وہ مدعی ہو یا مدعی علیہ۔بعض کے نزدیک مدعی علیہ پر قسم بحیثیت مدعی علیہ آتی ہے اس میں کسی اور وجہ کا دخل نہیں ہے لہذا مدعی پر قسم کسی صورت میں بھی نہیں آنی چاہئیے۔نصف مہر اس امر پر فقہاء کا اتفاق ہے کہ اگر خاوند تعلقات زوجیت قائم کرنے سے قبل طلاق دیدے تو اس صورت میں خاوند مقررہ مہر میں سے نصف مہر واپس اے امام مالک کے نزدیک مدعی علیہ پر حیثیت مدعی علی قسم نہیں آتی بلکہ اس پر قسم اس لئے آتی ہے کہ مدعی جب ثبوت پیش نہ کر سکے تو مدعی علیہ کی پوزیشن زیادہ مضبوط ہوتی ہے اس لئے اسے یہ حق دیا جاتا ہے کہ وہ قسم کے ذریعہ سے اپنی پوزیشن واضح کرے۔یہی وجہ ہے کہ بن حالات میں مدعی کی پوزیشن زیادہ واضح ہو لیکن وہ پورا ثبوت پیش نہ کر سکے تو امام مالک کے نزدیک ان مواقع پر مدعی سے بھی قسم لی جا سکتی ہے۔