ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 257 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 257

۲۵۷ وجوب کفارہ کی شرائط جمہور کا مذہب یہ ہے کہ کفارہ اس وقت تک واجب نہیں ہوتا جب تک ظہار کرنے والا دوبارہ جماع یا ارادہ جماع نہ کرے۔جمہور کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے :- وَالَّذِيْنَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ ثمَّ يَعُورُونَ بِمَا قَالُو فَتَحْرِيرُ رقبة الآيه ( مجادله لح) یہ آیت اس بارہ میں نص ہے کہ کفارہ اس وقت واجب ہوتا ہے۔جب ظہار کرنے والا ظہار کے بعد اپنی بیوی کے ساتھ دوبارہ ازدواجی تعلقات قائم کرنے یا قائم کرنے کا ارادہ کرے۔جمہور کی قیاسی دلیل یہ ہے کہ ظہار کا کفارہ بھی قسم کے کفارہ کی طرح ہے۔جس طرح قسم کے کفارہ کے لئے ضروری ہے کہ پہلے قسم توڑی جائے یا قسم توڑنے کا ارادہ کیا جائے۔اسی طرح ظہار کے گزارہ کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ ظہار کرنے والا پہلے اپنے قول سے منحرف ہو کر اپنی بیوی سے مجامعت کرے یا اس کا ارادہ کرے۔مجاہد اور طاؤس کا مذہب یہ ہے کہ ظہار کے کفارہ کے لئے جماع یا ارادہ جماع شرط نہیں ہے بلکہ نفس ظہار سے ہی کفارہ لازم آجاتا ہے کیونکہ یہ کفارہ قتل اور روزہ توڑنے کے کفارہ کی مانند ہے کہ نفس فصل سے ہی کفارہ لازم آجانا ہے کسی زائد معنی اور مفہوم کی ضرورت نہیں ہے۔جمہور کی دلیل کا انہوں نے یہ جواب دیا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں ظہار کو طارق سمجھا جاتا تھا۔اسلام آنے کے بعد اس حرمت کو کفارہ کے ذریعہ منسوخ کر دیا۔یعنی جاہلیت میں ظہارہ کی وجہ سے عورت حرام ہو جاتی تھی اسلام میں اس حرمت کو حلت میں تبدیل کرنے کے لئے کفارہ کا حکم دے دیا گیا۔اور قرآن مجید