گلشن احمد — Page 39
76 75 بھی قائم کی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو حج کا فریضہ ادا کرنے کے بھی سعادت عطا فرمائی۔روزنامہ الفضل جاری کیا۔آپ حضرت خلیفۃ اسیح الاوّل اور دوسرے رفقائے مسیح سے بہت ادب لحاظ سے پیش آتے۔حضرت خلیفۃ اسیح الاوّل کے تو آپ نیچے فرماں بردار اور اطاعت گزار تھے۔حضرت خلیفتہ اسیح الاوّل کے وصال کے بعد 14 مارچ بروز ہفتہ بعد نماز عصر آپ کو خدا تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کا دوسرا خلیفہ مقرر فرمایا۔آپ کے دور میں جماعت احمدیہ کی ترقی کی رفتار ہر گھڑی تیز تر ہوتی رہی۔تاریخ احمدیت کے اوراق آپ کے کارناموں سے مزین ہیں۔آپ نے دُنیا پر کلام اللہ کا مرتبہ ظاہر کیا۔زمین کے کناروں تک شہرت پائی۔اسلام اور بانی اسلام کا جھنڈا بلندیوں پر لہرانے لگا۔آپ نے خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ جس میدان میں قدم رکھا فتح پائی کیونکہ آپ کا دل حُبّ اللہ اور حُبّ رسول اللہ سے لبریز تھا۔چودہ سو سال کی بتدریج اسلامی تعلیم سے دُوری نے مسلمانوں میں کمزوری کا احساس پیدا کر دیا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تشریف لا کر اسلام کا حسین چہرہ دکھایا تو مسلمانوں کو کمزور دیکھنے کے خوگر سیخ پا ہو گئے اور اوچھے ہتھیاروں پر اتر کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر غلیظ حملے کرنے لگے۔عشاق رسول نے ہر رُخ سے حملوں کا بہادری سے جواب دیا۔آپ کے خلاف لکھی گئی کتب کے جواب میں مضامین لکھے گئے ،اخباروں کو توجہ دلائی گئی۔'الفضل' کے خاص نمبر نکالے گئے۔17 جون 1928ء کو ہندوستان کے طول و عرض میں جلسہ ہائے سیرۃ النبی منعقد کروائے تا کہ سوانح رسول پر اس قدر لیکچر دیے جائیں کہ بچہ بچہ آپ کے اسوہ حسنہ سے واقف ہو جائے۔پھر یہ جلسے معمول بن گئے اور اس طرح ایک مضبوط دفاعی فوج تیار ہو گئی اپنی ذاتی زندگی میں اسوہ رسول پر عمل کر کے اس کی حسن و خوبی کو نمایاں کیا۔آپ کی عبادتیں، آپ کی قربانیاں ، آپ کا جینا ، آپ کا مرنا عشق رسول سے لبریز تھا۔اور یہی روح آپ تقریر و تحریر سے جماعت میں منتقل فرماتے رہے۔پ کے پر معارف منظوم کلام ” کلام محمود میں بھی محبت الہی اور عرفان دین کی لگن پیدا کرنے کا جذبہ شعر کی مؤثر زبان میں موجود ہے۔آپ کے عہد میں دینی معاشرہ کی زندہ تصویریں وجود میں آئیں۔آپ نے تیز رفتاری سے ایسی اصلاحات فرمائیں جن سے ہر احمدی کی عام زندگی میں حقیقی انقلاب آ گیا۔اُن میں خود کو اور اپنے ماحول کو خدا تعالیٰ کے رنگ میں رنگین کرنے کا مجاہدانہ جذبہ بیدار ہو گیا۔اس مجاہدانہ جذبہ کی ضرورت اس لئے بھی تھی کہ احمدیت کی ترقی سے بوکھلا کر مخالفین نے زیادہ قوت سے حملے شروع کر دیے تھے۔1929ء میں مجلس احرار وجود میں آئی جس کا مقصد یہ تھا کہ چونکہ علم اور دلائل سے احمدیت کو زیر نہیں کر سکے۔اس لئے سیاسی ہتھکنڈوں سے بھر پور حملہ کیا جائے اور من گھڑت الزام لگا کر اُن کی تشہیر سے نفرت کی عام فضا پیدا کی جائے ایک طرف تو اُن الزامات کے دندان شکن جواب دیے گئے حتی کہ مباہلہ کی دعوت بھی دی اور دوسری طرف اپنی جماعت میں حالتِ جنگ جیسی کیفیت پیدا کرنے کے لیے 1934ء میں تحریک جدید کا اجرا کیا۔جس کا مقصد اپنی جانیں، اپنے دل ، اپنی اولاد، ہر قسم کی صلاحیتیں خدا تعالیٰ کے حضور پیش کرنا تھا۔اس تحریک میں مجاہدین احمدیت نے کامل اطاعت کی روح سے حصہ لیا اور اپنا سب کچھ دعوت الی اللہ میں جھونک دیا اس طرح ایک عظیم الشان دُور رس انقلاب کی راہیں کھلیں۔1939ء میں آپ کی خلافت پر چھپیں سال پورے ہونے پر شایانِ شان طریق سے خلافت جوبلی منائی گئی۔قرآن پاک آپ کو خود خدا تعالیٰ نے سکھایا تھا۔آپ نے ثابت فرمایا کہ قرآن پاک ایک زندہ خدا کا زندہ کلام ہے اور اس میں ایسے ایسے معارف ہیں جس میں رہتی دنیا تک اصلاح و ہدایت کا مکمل سامان موجود ہے۔وہ خزائن جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام تقسیم کرنے کے لئے لائے