گلشن احمد — Page 64
126 125 احادیث مبارکہ کا اشارہ کس طرف ہے جبکہ آپ کو تمثیلی زبان سمجھنا آ گیا ہے کہ خوابوں کی تعبیریں ہوتی ہیں یہ بھی معلوم ہے یہ نظارے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خواب میں دکھائے گئے۔آپ فرماتے ہیں بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ اطوف با الکعبہ یعنی میں نے سوتے ہوئے خواب میں کعبہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا۔( بخاری جلد دوم طبع مصری 171) بچہ۔میں سمجھ گیا اب آپ احادیث سے اصل الفاظ کا ترجمہ اردو میں بتا دیجئے۔ماں۔مشکوۃ کتاب الفتن میں بیان ہے۔کوئی نبی نہیں گزرا جس نے اپنی اُمت کو ایک آنکھ والے کذاب سے نہ ڈرایا ہو خبر دار ہو کر سُن لو کہ وہ یک چشم ہے۔مگر تمہارا رب یک چشم نہیں۔اس یک چشم دجال کی آنکھوں کے درمیان ک ،ف،رلکھا ہو گا۔۔۔وہ اپنے ساتھ جنت اور دوزخ کی امثال لائے گا مگر جس چیز کو وہ جنت کہے گا وہ دراصل نار ہوگی۔۔۔دجال خروج کرے گا اور اس کے ساتھ پانی اور آگ ہو گی مگر وہ چیز جو لوگوں کو پانی نظر آئے گی وہ دراصل جلانے والی آگ ہوگی اور وہ جسے لوگ آگ سمجھیں گے وہ ٹھنڈا اور میٹھا پانی ہوگا اور دجال کی ایک آنکھ بیٹھی ہوئی ہوگی اور اس پر ایک بڑا اُبھار سا ہوگا اور اس کی آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا جسے ہر مومن پڑھ سکے گا۔خواہ وہ پڑھا لکھا ہو یا نہ ہو اور ایک روایت میں ہے کہ دنبال دائیں آنکھ سے کانا ہو گا پس جب تم میں سے کوئی اُسے پائے تو اس پر سورہ کہف کی ابتدائی آیات پڑھے کیونکہ سورۃ کہف کی ابتدائی آیات اس کے فتنے سے تم کو بچانے والی ہوں گی۔۔۔دقبال آسمان یعنی بادل کو حکم دے گا کہ پانی برسا تو وہ برسائے گا۔اور زمین کو حکم دے گا کہ ” اُگا تو وہ اُگائے گی اور ویرانے سے گزرے گا اور اُسے حکم دے گا کہ اپنے خزانے باہر نکال تو اس کے خزانے باہر نکل کر اُس کے ساتھ ہو لیں گے۔۔۔دجال لوگوں سے کہے گا کہ دیکھو اگر میں اس شخص کو قتل کر دوں اور پھر زندہ کر دوں تو کیا تم میرے امر میں شک کرو گے؟ لوگ کہیں گے نہیں۔پھر وہ اُسے مارے گا اور پھر دوبارہ زندہ کرے گا۔۔۔اس کے ساتھ ایک پہاڑ روٹیوں کا ہو گا اور ایک نہر پانی کی ہو گی۔۔دقبال ایک چمکدار گدھے پر ظاہر ہوگا اور وہ گدھا ایسا ہو گا کہ اس کے دو کانوں کے درمیان ستر ہاتھ کا فاصلہ ہوگا۔وغیرہ وغیرہ۔بچہ۔ایک بات میں سمجھ گیا چونکہ یہ خواب ہے اس لئے یہاں دجال کا ذکر ہے مگر مراد دقبال صفت جماعت ہے کیونکہ اس کے جو کام بتائے گئے ہیں وہ ایک شخص کے نہیں جماعت کے ہیں۔ایک بات اور بتا دیں تو باقی خود بخود واضح ہو جائے گا۔سورہ کہف کے پہلے رکوع میں کیا مضمون بیان ہوا ہے۔ماں۔آپ خود ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ پڑھئے۔موضوع یہ ہے ” یہ کتاب اُن لوگوں کو ڈرانے اور ہوشیار کرنے کے لئے اُتری ہے جو خدا کا ایک بیٹا مانتے ہیں یہ بہت بڑے فتنے کی بات ہے اور سراسر جھوٹ ہے۔(الکہف رکوع 1) بچہ۔دجال سے مراد مسیحی اقوام ہیں۔سائنسی علوم میں مہارت سے زمین سے زیادہ پیداوار لینا۔معدنیات نکالنا اور تجارتی مقاصد سے سفر کرنا سب آسانی سے