گلشن احمد — Page 24
46 45 سنتیں معاف ہو جاتی ہیں۔مناسب یہ ہے کہ جمع ہونے والی نمازیں اوّل وقت ہوں یعنی عصر کے ساتھ ظہر نہیں اسی طرح مغرب کے ساتھ عشاء نہیں بلکہ مغرب کے ساتھ عشاء جمع ہو۔کسی مجبوری کے تحت عصر کے ساتھ ظہر اور عشاء کے ساتھ مغرب بھی جمع ہوسکتی ہے۔نماز وتر کیسے پڑھی جاتی ہے اور اس کا صحیح وقت کیا ہے؟ نماز وتر عشاء کے بعد صبح صادق تک پڑھی جا سکتی ہے۔بہترین وقت نماز تہجد کے بعد ہے۔نماز وتر کی تین رکعتیں ہوتی ہیں۔جو اکٹھی پڑھی جاسکتی ہیں یا دو رکعت کے بعد سلام پھیر کے تیسری رکعت الگ پڑھی جائے۔وتروں کی تیسری رکعت میں اللہ اکبر کہہ کر رکوع کرنے سے پہلے یا رکوع کرنے کے بعد سیدھے کھڑے ہو کر دعائے قنوت پڑھی جائے۔نماز کیسے اور کب قصر پڑھی جاتی ہے؟ سفر کی حالت میں چار رکعت والی نماز فرض دو رکعت پڑھی جاتی ہے۔سنتیں سفر میں ضروری نہیں۔البتہ وتر اور صبح کی دو سنتیں ضروری ہیں۔مقیم امام کے پیچھے مسافر ہونے کی حالت میں نماز پوری پڑھی جاتی ہے۔اگر امام مسافر ہوتو جب وہ دو رکعت کے بعد سلام پھیرے۔مقیم نمازی سلام نہ پھیریں اور کھڑے ہو کر نماز مکمل کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔” میری دانست میں جس سفر میں عزم سفر ہو پھر وہ خواہ دو تین چار کوس کا ہی سفر کیوں نہ ہو اس میں قصر جائز ہے۔“ ( ملفوظات جلد پنجم ص 311) ” جو شخص رات دن دورہ پر رہتا ہے اور اسی بات کا ملازم ہے وہ حالت دورہ میں مسافر نہیں کہلا سکتا اس کو پوری نماز پڑھنی چاہیے۔“ ( ملفوظات جلد نہم ص 172) ہم دُعا کرتے ہیں کہ اللہ پاک ہمیں اپنی پسند کی نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے وعدے کے مطابق جنتِ مَكْرَمُون عطا فرمائے۔آمین اللَّهُمَّ آمين۔ندا کے بعد کی دعا اللّهُمَّ رَبَّ هذه الدَّعُوةِ التَّامَّةِ وَالصَّلوة الْقَائِمَةِ أتِ مُحَمَّدَ ان لُوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَتُهُ مَقَامَاً مَّحْمُودَ نِ الَّذِي وَعَدْتَهُ (بخارى کتاب الاذان) اے اللہ ! اس کامل دعا اور قائم ہونے والی نماز کے رب ! محمد صلی اللہ علیہ وسلّم کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور آپ کو مقام محمود پر فائز فرما جس کا تو نے اُن سے وعدہ فرمایا ہے۔