گلشن احمد — Page 84
نونهالان جماعت مجھے کچھ کہنا ہے پر ہے یہ شرط کہ ضائع مرا پیغام نہ ہو چاہتا ہوں کہ کروں چند نصائح تم کو تا کہ پھر بعد میں مجھ پر کوئی الزام نہ ہو جب گزر جائیں گے ہم تم پر پڑے گا سب بار مستیاں ترک کرو طالب آرام نہ ہو خدمت دین کو اک فضل الہی جانو اس کے بدلہ میں کبھی طالب انعام نہ ہو رغبت دل سے ہو پابند نماز و روزه نظر انداز کوئی کام احکام نہ ہو مشکل ہے بہت منزل محصور ہے دور اے مرے اہل وفا ست کبھی گام نہ ہو حلمت رنج و غم و درد سے محفوظ رہو مہر انوار درخشندہ رہے شام نہ ہو (کلام محمود)