گلدستہٴ خیال — Page 20
۲۰ فراخدلی فراخدل انسان وہ ہوتا ہے جو بڑے دل والا۔بہادر۔مہربان۔فیض رساں۔مخیر۔وسیع الذہن۔مددگار اور رحمدل ہو۔دنیا میں آنحضرت ماہ سے زیادہ کوئی اور انسان فراخدل نہ تھا آپ حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کو معہ کے مشرکین نے دس سال تک نشانہ ستم بنائے رکھا حضور نبی پاک ﷺ سے نہایت برا سلوک کیا گیا آپ کا بائیکاٹ کیا گیا آپ کی ایز اور سانی کی گئی بلکہ کتنے ہی مظلوموں نے اس ستم کی چکی میں پس کر اپنی جان بھی گنوادی۔اور مکہ میں حالات اس قدر نا قابل برداشت ہو گئے کہ آپ مسلمانوں سمیت مدینہ کے پرامن شہر میں نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے جہاں آپ کا والہانہ استقبال کیا گیا آنحضرت ﷺ مدینہ میں اس گھڑی کا بڑی تڑپ اور اشتیاق سے انتظار کرتے تھے جب آپ مکہ کے مقدس شہر میں دوبارہ داخل ہو سکیں گے مگر اس خواہش کو پورا ہونے میں مزید دس سال لگ گئے۔بلآخر جب آپ تکہ کی طرف روانہ ہوئے تو آپ کے ساتھ دس ہزار صحابہ تھے آپ اگر چاہتے تو مکہ پر اچانک حملہ کر کے قبضہ کر لیتے اور انتقام کی آگ کو بجھا لیتے مگر اس کے بر عکس آپ نے خاص ہدایات جاری فرما ئیں کہ کوئی شخص لڑائی جھگڑا نہ کرے۔نہ کسی کو قتل کرے مکہ کے شہری آپ کے رحم و کرم پر تھے مگر مکہ کے لوگ حیران رہ گئے جب آپ نے ان کی ماضی کے ظلم معاف کر دئے ان میں سے بہت سے شہری آپ کی فراخدلی سے اس قدر متاثر ہوئے کہ اکثر نے انشراح صدر سے اسلام قبول کر لیا فراخدلی بانی جماعت احمدیہ حضرت میرزاغلام احمد صاحب کا امتیازی وصف بھی تھا۔۱۸۹ء میں آپ پر دشمنوں نے قتل میں حصہ لینے کا الزام لگا کر عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا مگر اس