گلدستہٴ خیال

by Other Authors

Page 155 of 173

گلدستہٴ خیال — Page 155

۱۵۶ مبلغ ایک مشفق باپ دلنشین مقرر بلکہ ایک منجھے ہوئے ادیب اور صاحب قلم بھی ہیں آپ کی تحریر کا انداز اچھوتا ہوتا ہے بلکہ جن مضامین پر آپ خامہ فرسائی فرماتے ہیں وہ بھی منفرد ہوتے ہیں جو بات آپ کہتے وہ ذاتی تجربہ - تحدی اور وثوق سے کہتے ہیں۔ایک لمبے عرصہ تک آپکے اعلی پایہ مضامین لندن سے شائع ہو نیوالے رسالہ مسلم ہیرالڈ میں شائع ہوتے رہے پھر ریویو آف ریلیز کے ایڈیٹر بھی رہے کتاب ہذا کے اکثر مضامین آپنے ریویو کیلئے گائیڈ پوسٹس کے عنوان سے لکھے تھے۔گائیڈ پوسٹس سے پہلے آپ کے مضامین کا مجموعہ لائف سپریم کے عنوان انگلش میں شائع ہوا تھا جسکا اردو میں ترجمہ عظیم زندگی کے نام سے ۱۹۸۹ء میں خاکسار نے شائع کیا اور اگلے سال اسکادوسرا ایڈیشن بھارت سے منصہ شہود پر آیا عظیم زندگی نے اردو دان طبقہ میں جو مقبولیت حاصل کی اسکی حالت یہ ہے کہ دس سال سے زیادہ عرصہ ہو لیئے باوجود قارئین اس کتاب کا ابھی تک مطالبہ کرتے ہیں عظیم زندگی میں پیش کئے گئے مضامین سے نہ صرف میں نے باکہ میرے بچوں اور سینکڑوں احباب جماعت نے اپنی زندگیاں سنواری ہیں۔کئی ایک احباب نے تو یہ کہا کہ یوں لگتا ہے کہ اصل کتاب اردو میں ہے ۱۹۹۳ء کے جماعت احمدیہ کے جلسہ سالانہ برطانیہ پر آپ نے جو تقریر کی اسکا عنوان بہت دلچسپ تھا۔۔Divine Communion Through Prayer آپ نے اپنے خطاب میں فرمایا۔ہر مخلص ایمان دار شخص خدا سے مکالمہ و مخاطبہ کا خواہش مند ہوتا ہے وہ خدا پر محض یقین سے مطمئن نہیں ہوتا وہ خدا کو اپنے وجود میں محسوس کرنا چاہتا ہے جسطرح سورج کی تمازت کا لطف دھوپ میں بیٹھ کر آتا ہے اسی طرح مومن خدا کے وجود کو اپنے نفس کے اندر محسوس کرنا چاہتا ہے خدا سے تعلق اور اس سے کلام کرنیکا صرف اور صرف ایک ذریعہ ہے اور وہ ہے دعا جس طرح ماں کے رحم کے اندریچہ ناف کی نالی سے غذا حاصل کرتا ہے۔یعینیہ ایک مومن روحانی غذادعا کے ذریعہ حاصل کرتا ہے کامیاب اور ثمر آور دعا کے آرٹ کو جاننے کیلئے مومن کو پوری طرح متوجہ ہونا چاہئے ایسا مومن جو خدا سے کلام کرنیکا ہر ممکن صورت میں خواہش مند ہوتا ہے (ریویو آف ریلجز۔اکتوبر ۱۹۹۳) زمانہ طفولیت سے ہی میں آپ کے نام سے واقف تھا یا کہ ربوہ میں تو ہر چہ۔بوڑھا آپ کے نام سے واقف تھا میری آپ سے پہلی ملاقات لندن کے ۱۹۸۵ء کے جلسہ سالانہ پر ہوئی۔سر پر جناح کیپ سفید ریش۔کوٹ اور ٹائی لگائے آپکی شخصیت نہ صرف پر جاذب بلکہ آپ کی ہلکی نرم زبان میں گفتگو بھی انسان کو قائل کر لیتی ہے ۱۹۹۷ء میں آپ ٹورنٹو۔کینڈا تشریف لائے تو میرے غریب خانہ پر بھی آئے اور شام کا کھانا انا وہ سے واپسی پر سکول فرمایا آپنے پاکستانی کھانا بہت شوق سے کھا یا میٹھے میں آپ نے رس ملائی پسند فرمائی۔میں نے دیکھا کہ آپ رک رک کر۔سوچ کر بڑے متحمل سے گفتگو کرتے تھے۔طبیعت میں جنتی سکون۔چھوٹے چھوٹے قدم لیکر چلتے۔ستر سال کی عمر کے باوجود آپ سیدھے چلتے تھے گویا کمر میں پیرانہ سالی کا کوئی غم نہ تھا۔آپ نے مسکرا کر مجھ سے استفسار کیا کہ یہاں کینڈا میں ہر کوئی میری