گلدستہٴ خیال — Page 48
۴۸ سے بھی زیادہ امیر بناتی ہے قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے اِن اگر مَكُم عِندَ الله القُكُم - (الحجرات سورة نمبر ۴۹ : آیت (۱۴) ترجمہ اللہ کے نزدیک تم میں سے سب سے معزز انسان وہی ہے جو سب سے زیادہ پر ہیز گار ہے کردار میں فضیلت سونے اور چاندی کے بر عکس ایسی دولت ہے جو ہم بوقت مرگ اس عالم میں پیچھے نہیں چھوڑ جاتے ہیں بلکہ یہ ھماری روح پر اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اثر انداز ہوتی ہے میرے نزدیک وہ شخص بہت ہی مفلس ہے جس کے پاس بڑے سے بڑے بینک بیلنس اور مادی اشیاء کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔قرآن پاک کے مندرجہ ذیل ارشاد پر ذرا غور فرمائیں : اور تمہارے اموال اور اولاد ایسی چیز نہیں جو درجے میں تم کو ہمارا مقرب بنا دے مگر ہاں جو ایمان لا وے اور اچھے نيك كام كرے یہ دو نوں چیزیں باعث قرب ہیں ایسے لوگوں کے لئے ان کے نیک اعمال کا دو گنا صلہ ہے اوروہ بہشت کے بالا خانوں میں چین سے بیٹھے ہوں گے (سورۃ سبا نمبر ۳۴۔آیت نمبر (۳۸) پھر ایک اور جگہ ارشاد خداوندی یہ ہے وَاِنَهُ عَلى ذلِكَ لَشَهِيدَه وَإِنَّهُ لِحَبِ الخَير لَشَدِيد، (العاديت سورة نمبر ۱۰۰ آئت نمبر ۸ اور (۹) ترجمہ اور وہ یقینا اس پر اپنے قول و فعل سے) گواہی دے رہا ہے۔اور وہ (باوجود اس کے) یقینا مال کی محبت میں بڑھا ہوا ہے بائبل میں لکھا ہے کہ اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے گزرنا آسان ہے چہ جائیکہ امیر انسان جنت میں داخل ہو ایک مصنف انڈریو کارنیگی نے کہا ہے دولت جمع کرنا بت پرستی کے مترادف ہے اس سے زیادہ بڑا ہت کوئی اور نہیں ہو سکتا ہے اس کے بر عکس نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانا انسان کو خدا کا مقرب بنا دیتا ہے قرآن پاک میں مومنوں کو تلقین کی گئی ہے فاستبقو الخيرات ) سورۃ نمبر ۲ آیت نمبر ۱۴۹ ) یعنی تم نیکی کے کاموں میں سبقت لے جانیکی مکمل سعی کرو۔یہ چیز اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی امیر بنے کا راز ہے یہ فی