گلدستہٴ خیال — Page 119
119 امان بھی اس سلسلہ میں ایک لازمی جزو ہے کیونکہ جنگ و جدال اور جھگڑوں سے اخوت جلد ہی دلوں سے ختم ہو جاتی ہے بلاشبہ اسی وجہ سے سرور کائینات فخر موجودات آنحضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اگر دو مسلمانوں میں جھگڑا ہو جائے تو انکو تین دن میں صلح کر لینی چاہئے آپ حضور ﷺ نے اخوت کی روح کا لب لباب اس نصیحت آمیز خطبہ میں یوں بیان فرمایا : اے لوگو۔میری بات کو اچھی طرح سے سن لو کیونکہ میں نہیں جانتا کہ اس سال کے بعد میں تم لوگوں کے درمیان اس میدان میں کھڑے ہو کر تقریر کروں گا۔تمہاری جانوں اور مالوں کو خدا تعالی نے ایک دوسرے کے حملہ سے قیامت تک کے لئے محفوظ قرار دیا ہے۔ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے تم سب ایک ہی درجہ کے ہو تم تمام انسان خواہ کسی قوم اور کسی حیثیت کے ہو انسان ہونے کے ناطے سے ایک درجہ رکھتے ہو یہ کہتے ہوئے آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ملا دیں اور کہا جس طرح ان دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپسمیں برا بر ہیں اسی طرح تم نوع انسان برابر برا بر ہو تہیں ایک دوسرے پر فضیلت اور درجہ ظاہر کرنے کا کوئی حق نہیں تم آپس میں بھائیوں کی طرح ہو ( دیبا چه تفسیر القرآن۔صفحه ۲۲۸) جنگ کی صورت میں یا جب حالات دیگر وجوہات کی بناء پر جڑے ہوں تو پھر اخوت کا ہاتھ بڑھانا غیر ممکن ہوتا ہے بہر صورت نفرت کو دل میں جگہہ نہیں دینی چاہئے جب ہمارے پیارے نبی دس ہزار قدسیوں کے ساتھ فاتح مکہ بن کر واپس لوٹے تو آپ نے اپنے سخت سے سخت دشمن سے صلہ رحمی کا سلوک کیا مکہ کا شہر آپ کے قدموں تلے تھا آپ چاہتے تو شہر کی اینٹ سے اینٹ بجادیتے اور آپ حضور اور مومنین پر غیر انسانی سلوک کرنے والے مجرموں کو انکے غیر انسانی جرائم کی سزا دیتے اس کے بر عکس آپ مکہ پر کشت و خون کے بغیر