گلدستہٴ خیال — Page 93
۹۳ 4: تقویٰ کے راستہ پر ترقیاں حاصل کرتے اور خدا کے نور کے پر تو میں سفر کرتے ہیں یاد رہے کہ اس ترقی کا دارومدار مستقل مزاجی اور ثابت قدمی میں مضمر ہے کیونکہ اس روحانی کشمکش میں اسکو بہت قسم کی رکاوٹوں سے سامنا کرنا پڑتا ہے کتنی بد قسمتی ہے کہ انسان روحانی تجربہ اور ترغیب کے فقدان کے باعث مایوسی کے گندے پانی میں ڈوبا جارہا ہے ایسی مایوس کن حالتیں روحانی مسافروں کو بھی وقتا فوقتا پیش آتی ہیں ایسے حالات ہر شخص کے لئے باعث آزمائش ہوتے ہیں ان آزمائش کن حالات میں انسان کو خدا کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھنا چاہئے اور مایوس نہیں ہونا چا ہئے قرآن مجید میں ہمیں یہ دعا سکھلائی گئی ہے۔۔رَبَنَا أَفَرَغَ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسلِمِيْن ٥ (۱۳۷۷) اے ہمارے رب ہم کو صبر عطا فرما اور ہمیں اس حالت میں موت دینا کہ ہم مسلمان ہوں روزانہ نماز کے دوران ہر مسلمان خدا سے ملتجی ہوتا ہے کہ وہ اسے صراط مستقیم پر قائم رکھے۔دعا کا جواب اگر اسے جلدی نہ ملے تو اسے مایوس نہیں ہونا چاہئے یا اسکا مذ ہبی جوش و خروش اگر کم ہو جائے تو بھی گھبر انیکی بات نہیں ہے اسے صبر کا دامن چھوڑنا نہیں چاہئے جلد یا بد پر وہ اپنے ایمان اور عقیدہ میں تواتر کے باعث اسکے پھل ضرور پائیگا جو خدا کے مقرب ہندے ہیں وہ بھی بعض دفعہ نماز میں لطف محسوس نہیں کرتے۔اور روحانی تجربات کا لطف بھی قدرے کم ہو جاتا ہے اس خاص موضوع پر حضرت میرزا غلام احمد صاحب مسیح اور مہدی موعود علیہ السلام نے یوں تبصرہ فرمایا ہے : جو لوگ خدا پر ایمان لاکر پوری پوری استقامت اختیار کرتے ہیں ان پر خدا تعالیٰ کے فرشتے اترتے ہیں اور یہ الہام انکو کرتے ہیں کہ تم کچھ خوف اور غم نہ کرو تمہارے لئے وہ بہشت ہے جس کے بارے میں تمہیں وعدہ