گلدستہٴ خیال — Page 60
۶۰ کمزوریوں کو چھوڑو اور خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق اپنے قول و فعل بناؤ۔۔( ملفوظات جلد اول صفحه ۴۵) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عائلی زندگی گویا جنت کا جیتا جاگتا نمونہ تھی جس میں آپ آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی کہ تم میں سے سب سے اچھا خاوند وہ ہے جو اپنی اہلیہ سے سب سے اچھا سلوک کرتا ہے پر سختی سے عمل پیرا ہوتے تھے ایک موقعہ پر آپ نے بیان کیا : میرا یہ حال ہے کہ ایک دفعہ میں نے اپنی بیوی پر آوازہ کسا تھا اور میں كه محسوس کرتا تها که وه بانگ بلند دل کے رنج سے ملی ہوئی ہے اور بایں ہمہ کو ئی دلآزار اور درشت کلمه منه سے نہیں نکالا تھا اسکے بعد میں بہت دیر تک استغفار کرتا رہا اور بڑے خشوع خضوع سے نفلیں پڑھیں اور کچھ صدقہ بھی دیا که یه درشتی کسی پنہانی معصیت الہی کا نتیجہ ہے ( ملفوظات جلد ۲ صفحه ۲ مطبو عه لندن ) ہم میں سے بعض یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم نے بہ ظاہر نظر آنے والے گنا ہوں سے اجتناب کر کے بہت اچھا فعل کیا ہے جبکہ ہم اپنے کردار کے بہت عمیق اور چھوٹے نکات نظر انداز کر دیتے ہیں قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے وَتَحْسَبُونَهَا هَبْنَا وَهُوَ عِندَ اللَّهِ عَظِيم (سورة ۲۴ آیت (۱۵) اور تم اسکو معمولی بات ( یعنی غیر موجب گناہ ) سمجھ رہے تھے حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک بہت بھاری بات تھی۔انگلش کا یہ مقولہ بھی بہت مشہور ہے کہ وہ شخص جو چھوٹی باتوں کو حقیر جائیگا وہ دھیرے دھیرے تباہ ہو جائیگا بیان کیا جاتا ہے کہ ایک بار حضرت احمد علیہ السلام نے سفر کے دوران اپنے ایک مرید کے یہاں قیام کیا یہ سخت گرمیوں کے دن تھے گھر کی چھت پر آپ کا بستر لگایا گیا چھت پر منڈیر نہ تھی یہ چیز آپ کو بری لگی اور آپ نے حدیث قدسی بیان فرمائی جس میں نبی کریم ﷺ نے منڈیر کے بغیر چھت پر سونے سے منع فرمایا گھر میں کوئی اور موزوں