گلدستہٴ خیال

by Other Authors

Page 47 of 173

گلدستہٴ خیال — Page 47

مال و دولت کا دولت دنیوی چیزوں کا نام نہیں بلکہ یہ نفس مطمنہ سے عبارت ہے حدیث قدسی انسان کو مال و دولت کے حصول کے علاوہ کسی اور چیز کی اس دنیا میں اتنی حرص نہیں ہوتی بلکہ اکثر لوگوں کیلئے زیادہ سے زیادہ مال کا حصول اس دنیا میں ایک بہت بڑا مسئلہ ہے متمول لوگ مزید سے مزید دولت کے ہر وقت خواہش مند رہتے ہیں۔حالانکہ ان کے پاس دولت کی فراوانی پہلے ہی ہوتی ہے ایسے لوگ مذہب کی فکر ذرا نہیں کرتے۔نہ ہی ان کو خدا کا خیال آتا ہے۔آئے دن ان کو صرف ایک چیز کی فکر کھائے جاتی ہے کہ وہ اس مادی زندگی کو مزید سے مزید کسی طرح بہتر بنائیں انسان کا اپنی مادی زندگی کو بہتر بنانا کوئی برا فعل نہیں بری چیز یہ ہے کہ انسان اپنی توجہ اس طرف مرکوز کر کے اپنے روحانی فرا ئض کو فراموش کر دے یا ان کو نظر انداز کر دے اللہ سبحانہ و تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں : ان الذین لایر جُونَ لِقَاءَنَا وَرَضُوا بِالحَيوة الدنيا (يونس سورۃ نمبر ۱۰ آیت ۷) ترجمہ۔یقیناً جن لوگوں کو ہمارے پاس آتکی فکر نہیں ہے اور ان کو اس دنیا کی زندگی بہت پیاری ہے یہ بات کس قدر سچی ہے مگر کس قدر افسوس ناک بھی ہے کہ روحانی اوصاف اور اخلاقی اقدار کے حصول کیلئے کوئی توجہ نہیں دی جاتی جو نیک کردار بنا کے بنیادی اجزاء ہونیکے ساتھ دولت کا صحیح امتیاز بھی ہیں کسی نے کیا خوب کہا ہے انسان کا کردار ہی اصل خوشحالی ہے یہی سب سے اچھا مال و متاع ہے دنیا میں کئی لوگ ایسے ہیں جن کے پاس دنیوی مال و دولت تو نہیں ہے لیکن ان کے سروں پر ایسے تاج ہیں جو ہیرے جواہرات سے سے اٹے پڑے ہیں اور یہی چیز ان کو کسی بادشاہ