گلدستہٴ خیال

by Other Authors

Page 150 of 173

گلدستہٴ خیال — Page 150

۱۵۱ انکو اس معاملہ میں کامیابی سے نوازا گزشتہ دسمبر کے مہینہ میں جب ان سے کہا گیا کہ وہ اعلیٰ دینی تعلیم کیلئے قادیان جائیں تو انہوں نے اس موقعہ کو خلوص دل سے خوش آمدید کہا اور نہایت بعاشت کے ساتھ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے قادیان تشریف لے آئے ایک سچا مو من خدا کے وعدوں کو پورا ہوتے دیکھ کر خوشی اور مسرت کا اظہار کرتا ہے حضرت نبی کریم ہے نے آج سے ۳۶۰ ۱ سال قبل پیش گوئی فرمائی کہ مسیح موعود کے دور میں مغرب میں اسلام کی تبلیغ بہت زور سے ہو گی یہ وہ دور ہو گا جب مغرب مادیت میں بری طرح ڈوب چکا ہو گا اور دنیوی ترقی میں پورے عروج پر ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام وہ واحد شخص ہیں جنہوں نے تاریخ اسلام میں پہلی بار مندرجہ ذیل پیش گوئی کے صحیح معنی بیان فرمائے طلوع الشمس من المغرب يعنى سورج مغرب کی طرف سے طلوع ہو گا ۱۸۹۱ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے دعوئی کے دو سال بعد اپنی کتاب ازالہ اوہام میں فرمایا کہ نبی کریم ے کی یہ پیش گوئی کہ سورج مغرب سے طلوع ہو گا اسکا مطلب یہ ہے کہ مغربی ممالک جو الحاد اور کفر کے تاریک سایہ میں ڈوبے ہوئے ہیں وہ صداقت کے سورج کی روشنی سے منور کئے جائیں گے اور اسلام کی برکات سے فیض یاب کئے جائیں گے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے آپکو لندن میں ایک منبر پر تبلیغ کرتے اور اسلام کے محاسن بیان کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سفید رنگ کے پرندے پکڑے جو درختوں پر بیٹھے ہوئے تھے اس خواب کی تعبیر آپنے یہ فرمائی کہ اگر چہ آپ بذات خود لندن نہیں جا سکیں گے مگر آپکی تعلیم کا وہاں بہت چرچا ہو گا اور بہت سے نیک انگریز صداقت کو قبول کر لیں گے یہ خواب یا کشف ان تمام انگریزوں پر سچا ثابت ہوتا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لائے ہیں ہر وہ نیک انگریز جو احمدیت کے دامن میں داخل ہوتا ہے یقیناً وہ ایک سفید پرندہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالٰی نے دکھلائے تھے اس لئے مسٹر آرچرڈ کو جاطور پر خوش ہونا چاہئے اور خدا کا مشکور ہونا چاہئے کہ خدا نے اپنی برکات کا نزول ان پر فرمایا اگر کسی کا نام بادشاہ کو یاد ہو تو اس شخص کی خوشی کی انتہا نہیں ہوتی ہے اور پھر وہ شخص کیوں نہ خوشی سے اچھلے گا جسکا ذکر شہنشاہوں کے شہنشاہ زمین و آسمان کے مالک نے خود کیا ہو وہ لوگ یقیناً بہت خوش نصیب ہیں جو حضرت صحیح موعود علیہ السلام کو دکھلائے گئے اسکا مطلب یہ بھی ہے کہ ایسے لوگوں کے دل تمام کدورتوں سے صاف کئے جائیں گے اور اسکے انفاس روحانیت میں ایک عظیم مقام رکھتے ہوں گے وہ صداقت کو قبول کر کے مطمئن نہ ہوں گے بلکہ وہ پرندوں کی طرح پرواز کریں گے اور جس طرح حضرت عیسی علیہ السلام کے حواریوں نے انکا پیغام دوسرے لوگوں تک پہنچایا تھا ای طرح اس صحیح کے حواری اسلام کا پیغام دوسروں تک پہنچائیں گے یہ بات یہاں غور کے لائق ہے کہ جس طرح عیسی علیہ السلام کے پیروکاروں کو استعارہ پرندے کہا گیا تھا اور حضرت عیسی علیہ السلام نے انکو اپنی صداقت کے ثبوت کے طور