گلدستہٴ خیال — Page 146
۱۴۷ سیدنا حضرت خلیفہ البیع الثانی نے آرچرڈ صاحب کو عرفی۔اردو اور مزید اسلامی تعلیم حاصل کر چکے واسطے قادیان بلالیا ابھی انکو قادیان آئے کچھ زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا کہ ہندوستان و پاکستان دو علیحدہ علیحدہ ملک قائم ہو گئے قادیان چونکہ ہندوستان کے حصہ میں آیا جہاں سے مسلمانوں کو مجبوراً نکلنا پڑایا ہندو حکومت نے مجبور کر کے مسلمانوں کو نکالا آرچرڈ صاحب اپنی تعلیم ختم کرنے سے پہلے انگلستان روانہ ہو گئے اور لندن میں تبلیغ شروع کر دی بعد ازاں وہ گلاسکو پہنچے اور تبلیغ پر سر گرمی سے عمل پیرا ہوئے۔چو نکہ مرکز سے جو امداد انہیں ملتی تھی وہ اتنی کم تھی کہ انگلینڈ جیسے ملک میں اس رقم سے ایک آدمی کا کھانے پینے کا گزارہ ہی مشکل سے ہوتا ہے اس لئے وہ فالتو وقت میں محنت مزدوری کرتے اور اس سے جو پیسہ حاصل ہو تا وہ اشتہارات چھپوانے میں خرچ کرتے اس اثناء میں انکی شادی لندن میں ایک انگریز احمدی خاتون عائشہ ویلیز سے ہو گئی شروع شروع میں تو انکی اہلیہ بھی تبلیغ کا بہت شوق رکھتی تھی مگر بعد میں کسی وجہ کی بناء پر آرچرڈ صاحب نے اسکو طلاق دیدی چنانچہ یہ خاتون اس لڑکی کو بھی اپنے ساتھ لے گئی جو آرچرڈ صاحب سے ہوئی تھی ۱۹۵۸ء میں انکی دوسری شادی خلیفہ علیم الدین صاحب کی صاحبزادی قلعہ بیگم سے ہوئی۔جس سے ان کے پانچ بچے ہیں زندگی کا ایک نازک لمحہ غالبا ۱۹۸۰ء کا واقعہ ہے کہ آرچرڈ صاحب ربوہ آئے ہوئے تھے اور خلیفہ علیم الدین صاحب کے مکان محلہ وار لصدر شمالی میں مقیم تھے اور خاکسار کی رہائش بھی اسی محلہ میں تھی عاجز نے ان کو اپنے گھر کھانے پر مدعو کیا اثنائے گفتگو خاکسار نے آرچرڈ صاحب سے دریافت کیا کہ قبول احمدیت کے بعد آپ پر کیا کوئی غیر معمولی یعنی انتہائی نازک لمحات بھی پیش آئے تو انہوں نے بتایا کہ انکی زندگی میں تین مرتبہ نہایت نازک مواقع آئے وہ تینوں نازک لمحات