گلدستہٴ خیال — Page 145
۱۴۶ وعلیکم السلام کہہ کر مصافحہ کیا انہوں نے بتایا کہ وہ کل روزے سے تھے (کیونکہ یہ رمضان شریف کا مہینہ تھا) روڈ مارچ کیلئے گئے جب واپس لوٹے تو مختار ہو گیا اور سر درد ا سکے بعد کافی دیر تک احمدیت کے متعلق گفتگو ہوتی رہی میں سبحان اللہ کا ورد کر رہا تھا کہ کس طرح خداوند تعالیٰ نے اس مادیت میں ڈوٹی ہوئی روح کو اسلام میں فنا کر دیا ہے کہ وہ نماز میں باقاعدگی سے ادا کرتا ہے بلا ناغہ تہجد پڑھتا ہے قرن شریف کی تلاوت کرتا ہے نہ صرف یہ کہ اپنی زندگی اسلام تعلیم کے عین مطابق بسر کرنے کی کوشش کرتا ہے بلکہ تبلیغ اسلام بھی شروع کر دی ہے آرچرڈ صاحب نے اپنے حالات بیان کرنے شروع کر دیئے کہنے لگے یہاں ایک جگالی مسلمان کیپٹن معظم دار نامی ہے وہ میری بہت مخالفت کرتا ہے لیکن جب اسے کوئی مصیبت پڑتی ہے تو دعا کیلئے بھی مجھ ہی سے درخواست کرتا ہے کہنے لگے ایک دن ہم سب میس میں بیٹھے ہو ئے تھے میں ایک سکھ میجر سے گفتگو کر رہا تھا جب میں نے اسے بتایا کہ بابا نانک مسلمان تھے تو وہ اس بات سے ناراض ہو گیا اور مجھ سے جھگڑنے لگا اور بھی کئی واقعات سنائے اور بتایا کہ غیر مسلم تو میری مخالفت کرتے ہی ہیں مگر تعجب ہے کہ دوسرے مسلمان بھی میری مخالفت پر کمر بستہ رہتے ہیں اس شام جب میں روانہ ہونے لگا تو وہ مجھے پہچانے آئے سڑک پر ایک تانگے والا گزر رہا تھا تانگے والے نے لیفٹینٹ صاحب کو سلام کیا اور تانگہ ٹھہرالیا انہوں نے مجھے تانگے پر بٹھایا اور خود معذرت کر کے چلے گئے راستہ میں میں نے تانگے والے سے دریافت کیا کہ تم نے اس انگریز کو سلام کر کے اس سے ہاتھ کیوں ملایا۔تو اسنے جواب دیا کہ صاحب آپکو کیا پتہ کہ یہ کیسا آدمی ہے ؟ یہاں کوئی شخص بھی ایسا نہیں ہوگا جو اسکو نہ جانتا ہو یہ صاحب تو تانگے میں بھی بیٹھتا ہے تو ہم لوگوں کو اسلام کی تبلیغ کرتا ہے یہ تو کوئی ولی ہے ولی۔واہ کیمپ سے روانہ ہو کر میں واپس راولپنڈی آگیا اور دوسرے دن سری نگر روانہ ہو گیا ¦